Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
398 - 412
    چنانچہ، وہ شخص اپنے گھرآیااورسانپ کی گھات میں بیٹھ گیا۔اچانک سانپ کے بل کے قریب اسے ایک نایاب موتی نظرآیاجس کاوزن ایک مثقال تھا۔موتی دیکھ کراس کی لالچی طبیعت خوش ہوگئی ۔وہ لالچ کے عمیق گڑھے میں گرتاہی چلا گیا، شیطان نے اسے بہکایاتودولت کی ہَوَس نے اس کی آنکھوں پرغفلت کاپردہ ڈال دیا۔وہ سب باتیں بھول کرکہنے لگا: ''زمانہ طبیعتوں کومختلف کردیتاہے، اس سانپ کی طبیعت بھی مختلف ہوگئی ہوگی جس طرح سونے کے انڈوں کے بجائے یہ موتی دینے لگاہے، اسی طرح اس کازہربھی ختم ہوگیاہوگا،لہٰذامجھے سانپ سے بے خوف ہوجاناچاہے ۔''یہ کہہ کراس نے سانپ کے بل کے قریب جھاڑو دی،خوشبومہکائی،پانی چھڑکاتوسانپ دوبارہ اس کے پاس آنے لگا۔اب یہ لالچی شخص قیمتی موتی پاکربہت خوش رہنے لگااورسانپ کی سابقہ دھوکہ بازی کوبھول گیا۔پھراس نے ساراسونااور موتی برتن میں ڈ ال کرایک گڑھا کھودکرزمین میں دبادیااوراس پرسررکھ کرسوگیا۔رات کوسانپ نے اسے بھی ڈس لیا ۔ شدتِ دردکی وجہ سے اس کی چیخیں بلندہونے لگیں توپڑوسی بھاگ کرآئے اوراسے ڈانٹتے ہوئے کہا:'' تم نے اسے قتل کرنے میں سستی کیوں کی ،اورلالچ میں آکراپنی جان کیوں دے دی ؟'' لالچی خاموش رہااورسونے سے بھراہوابرتن نکال کراپنے رشتے داروں اور دو ستو ں کے حوالے کرتے ہوئے اپنے فعل سے معذرت کی ۔ دوستوں اورعزیزوں نے کہا:''آج کے دن تیرے نزدیک اس مال کی کوئی وقعت نہیں کیونکہ اب یہ دوسروں کاہوجائے گاا و رتُوخالی ہاتھ چلاجائے گا۔''کچھ ہی دیربعد وہ لالچی شخص ہلاک ہو گیا اور سا ر ا مال دوسروں کے لئے چھوڑ گیا۔ لوگوں نے کہا:''اس محروم شخص نے خودہی اپنے آپ کوہلاکت میں ڈالا حا لانکہ ہم سب نے اسے کہاتھاکہ اس موذی سانپ کوفوراًہلاک کردینالیکن مال ودولت کے لالچ نے اسے اندھاکردیا ۔ ' '

     یہ واقعہ سنانے کے بعدراہب نے کہا:''مجھے تعجب ہے ان لوگوں پرجو سانپ والی حکایت جاننے کے باوجودبھی عبرت حاصل نہیں کرتے !ایسالگتاہے کہ ان کایہ قول کہ ''ہمیں امیدہے کہ اعمال پرثواب ملے گا'' صرف ان کی زبانوں تک محدودہے کیونکہ ان کے اعمال اس قول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ہلاکت ہے ان لوگو ں کے لئے جوجاننے کے باوجودغافل ہیں،اگران کوبھی وہ شی  پہنچی جو''انگوروالے ''کوپہنچی تھی توان کے لئے ہلاکت وبربادی ہے ۔''پوچھا:''حضور!''انگوروالے'' کے ساتھ کیاواقعہ پیش آیا ہمیں تفصیلاًبتائیے ؟''
تین مزدوروں کاقصہ
    راہب نے کہا:''مشہورہے کہ ایک مال دارشخص کے کھیت میں انگورکی بیلیں اور پھلوں کے درخت تھے ۔اس نے انگوروں کی دیکھ بھال کے لئے تین مزدوروں کوبلایااور سب کوکھیت کاایک ایک حصہ دیتے ہوئے کہا:''تم میرے کھیت کی
Flag Counter