زندگی سنوار نے کے لئے امیدوں پربھروسہ نہیں کرتے ،جس گھرکی بربادی کاتمہیں علم ہے تم اسی کے حصول کے لئے کوشاں ہواورہمیشہ رہنے والے گھرکوعارضی دنیاکی وجہ سے چھوڑرہے ہو ۔ اچھا یہ بتاؤکہ جس شہر میں تم نے مکانات ومحلات تعمیرکئے اگرتم سے کہاجائے کہ عنقر یب اس شہرپرایک زبردست بادشاہ بہت بڑا لشکرلے کر حملہ آور ہوگاوہ تمام عمارتیں گرادے گا اور شہریوں کو قتل کردے گا ''تو کیا تم ایسے شہرمیں رہنا پسند کرو گے؟ کیاایسی عمارتوں میں رہائش اختیارکروگے؟''تینوں نے کہا:''نہیں ،ہم لمحہ بھرکے لئے بھی ایسے شہر میں رہناپسندنہیں کریں گے۔'' راہب نے کہا: ''خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!تمام بنی آدم کامعاملہ کچھ ایساہی ہے ، عنقریب سب کوموت کا سا منا کرناپڑے گا، دُنیا کا ہر شہر بالآخرختم ہوجائے گا۔ہاں!میں تمہیں ایک ایسے شہرکے متعلق بتاتاہوں جوکبھی فنانہ ہوگا۔اس میں اَمن ہی اَمن ہوگا۔وہاں تمہیں کوئی ظالم اپنے ظلم کا نشانہ نہ بناسکے گااورنہ ہی کوئی جابر حاکم مُسَلَّط ہوگا،وہاں کے پھل وباغات کبھی ختم و کم نہ ہوں گے۔''
تینوں نے کہا:''آپ جوکہناچاہتے ہیں ہم سمجھ گئے ہیں،لیکن ہمارے نفس تودنیاکی محبت کاجام پی چکے ہیں، ا ب اس دائمی نعمتوں والے شہر(جنت)کا حصول اتنا آسان نہیں؟''راہب نے کہا:''بڑے سفروں کی وجہ سے بڑے بڑے منافع حا صل ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ جاہل اورعالم اپنے آپ کوہلاک کرنے کے بارے میں برابرکیسے ہوگئے ۔مگرہاں!یہ بات ہے کہ جو چور چوری کی سزاسے ناواقف ہووہ اس چورسے زیادہ معذورہے جو سزاسے واقفیت کے باوجودچوری کرے ۔تعجب ہے اس شخص پر جواپنی آخرت کی بھلائی کے لئے مال خرچ نہیں کرتابلکہ دوسروں پرخرچ کرتاہے ۔میں اس دنیاکے لوگوں کودیکھ رہاہوں کہ یہ ا پنے لئے آخرت میں ذخیرہ تیارنہیں کرتے۔ایسالگتاہے جیسے انہیں اُن باتوں پریقین ہی نہیں جوانبیاء کرام علٰی نبیناوعلیہم الصلٰوۃ والسلام نے بتائیں اور جنہیں لے کروہ پاک ہستیاں اس دنیامیں مبعوث ہوئیں۔''تینوں نے کہا:''ہم اس قوم میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جو انبیاء کرام علٰی نبیناوعلیہم الصلٰوۃوالسلام کی لائی ہوئی باتوں میں سے کسی کی تکذیب کرتاہو۔''راہب نے کہا: ''مجھے بہت زیادہ تعجب ہے کہ لو گ کہتے تویہ ہیں کہ ہم تصدیق کرتے ہیں ،لیکن ان کاعمل ان کے قول کے خلاف ہے گویا وہ بغیراعمال کے ثواب کی امیدرکھتے ہیں۔'' تینوں نے راہب سے کہا:''ہمیں بتایئے کہ آپ کوامورکی معرفت کس طرح حاصل ہوئی ؟ آپ کس طرح دنیاکی حقیقت سے آگاہ ہوئے ؟ ' ' کہا:''جب میں نے اس دنیاکی ہلاکت کے بارے میں غوروفکرکیاتویہ بات واضح ہوئی کہ ہلاکت چارایسی چیز و ں کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں لذت رکھی گئی ۔اوریہ چاردروازے ہیں جوجسم میں ترکیب دیئے گئے ہیں۔ان میں سے تین سرمیں اور ایک پیٹ میں ہے۔دوآنکھیں،دونتھنے اورگلایہ سرکے دروازے ہیں۔اور چوتھی راہ جوپیٹ میں ہے وہ شرمگاہ ہے ۔ انہی دروازوں سے انسان پربلائیں اورمصیبتیں آتی ہیں ۔پھر جب میں نے غور وفکر کیاکہ تکلیف کے اعتبارسے کون سادروازہ زیادہ خفیف ہے ؟تو سب سے زیادہ خفیف دروازہ نتھنے محسوس ہوئے کیونکہ یہ خوشبو