Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
394 - 412
ملک کے نظام کوسنبھال سکے۔''راہب نے کہا:''میں نہیں جانتاکہ تم میں سے افضل کون ہے؟تم سب ایک ہی چیز کے طالب ہو اور اس طلب میں تم سب برابر ہو۔'' تینوں میں سے ایک نے سوچاکہ اگرمیں اس عہدے سے بیزاری ظاہرکروں توشایدمجھے ہی بادشاہی سونپ دی جائے۔ چنانچہ، اس نے راہب سے کہا:''میں اس بادشاہی منصب کے بارے میں اپنے دونوں ساتھیوں سے ہرگز نہیں اُلجھوں گا۔'' راہب نے کہا: ''میراتویہ گمان ہے کہ تیرے دونوں ساتھیوں میں سے کوئی بھی تیرے علیحدہ ہوجانے کو ناپسند نہیں کرتا۔اب تم ہی ان دونوں میں سے جسے چاہوبادشاہت کے لئے چن لواورمیرے کان میں بتادو،میں اُسی کوبادشاہ بنا دوں گا۔''اس نے راہب کی یہ بات سنی توکہا:''عالیجاہ ! آ پ جسے چاہیں اختیارفرمالیں میں یہ کام نہیں کرسکتا۔''راہب نے کہا: ''اس سے تویہی ظاہرہورہاہے کہ تم نے اپنی دستبرداری کے قول سے ر جوع کرلیاہے اورتم اب بھی بادشاہت کےمُتَمَنِّی(یعنی خواہش مند) ہو،اب پھرتم تینوں میری نظرمیں برابر ہو گئے ہو۔ میری باتیں بڑی غو رسے سننا!میں تمہیں نصیحت کروں گا،دنیااوراس میں تمہاری موجودگی کی مثالیں پیش کروں گا۔تم سب سمجھ دار اور اہلِ علم ہو۔مجھے بتاؤ کہ تمہاری بادشاہت اورتمہاری عمریں کتنی طویل ہوں گیں؟تم کتناعرصہ زندہ وباقی رہوگے ؟''تینوں نے کہا: ''ہمیں نہیں معلو م کہ ہم کتنا عرصہ زندہ رہیں گے؟ہوسکتاہے پلک جھپکنے کی مقداربھی زندہ نہ رہ سکیں۔''راہب نے کہا:''پھرتم ایک غیریقینی چیز کے دھوکے میں کیوں پڑے ہو؟''کہا:''صرف اس امیدپرکہ شایدہماری عمریں طویل ہوں۔''راہب نے پوچھا: ''اچھایہ بتاؤتمہاری عمرکتنی ہے ؟ ''کہا:''ہم میں سے سب سے چھوٹاپینتیس(35)سال اورسب سے بڑا چالیس (40) سال کا ہے ۔''

    راہب نے پوچھا:''اچھایہ بتاؤ ،زیادہ سے زیادہ تم کتناعرصہ زندہ رہناپسند کرتے ہو؟'' کہا:''چالیس سے زیادہ زندہ رہناہمیں پسند نہیں اورنہ ہی اتنی عمرکے بعدزندہ رہنافائدہ مندہے ۔''راہب نے کہا:''پھرتم اپنی بقیہ عمرمیں اس ملک کوحاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے جوکبھی بربادنہ ہوگا؟ایسی نعمتیں کیوں نہیں چاہتے جوکبھی ختم نہ ہوں گی ؟ ایسی لذت وزندگی کو محبوب کیوں نہیں رکھتے جسے مو ت بھی ختم نہیں کرے گی؟نہ وہ زندگی ختم ہوگی ،نہ وہاں غم وپریشانی ہوگی نہ بیماری ۔تم ایسی نعمتوں کے لئے کیوں کوشش نہیں کر تے ؟ '' کہا:''ہمیں امیدہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے ہمیں یہ چیزیں ضرورملیں گی ۔''راہب نے کہا :''تم سے پہلے بھی ایسے لوگ تھے جوایسی ہی امیدیں کرتے تھے جیسی تم کرتے ہو۔وہ بھی ایسی ہی خواہش کرتے تھے جیسی تم کرتے ہو ۔انہوں نے انہی امیدوں کی وجہ سے اعمالِ صالحہ ترک کردیئے یہاں تک کہ انہیں موت آپہنچی پھرسزاان کامُقَدَّر بنی اورتم تک ان کی خبریں پہنچ چکی ہیں ۔ جسے معلوم ہو کہ سابقہ لوگوں کاکیاانجام ہوااس کے لئے مناسب نہیں کہ وہ بغیر عمل کے امید کرے ۔ اوریہ بات بالکل واضح ہے کہ جوشخص لَق ودَق(ویران)صحراء میں پانی ساتھ لئے بغیرسفرکرے توقریب ہے کہ پیاس کی شدت سے مرجائے ۔میں دیکھ رہاہوں کہ تم اپنے جسموں کوہلاک کرنے کے بارے میں امیدوں پربھروسہ کرتے ہولیکن