حضرتِ سیِّدُناعبیداللہ بن محمدقُرَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''سابقہ لوگوں میں سے چند نیک لوگوں نے ایک کتاب کے بارے میں بیان کیاکہ اس میں بے شمارعبرت آموزباتیں اورفکرِ آخرت دلانے والی متعددحکایات واَمثال(مثالیں) ہیں۔ عقلمند اس کے مطالعہ سے آخرت کی طرف راغب ہوتااورفانی دنیاسے بیزارہوجاتاہے۔وہ کتاب'' اُنطونس'' کی طرف منسوب ہے ۔ ''اُنطونس '' کے بارے میں منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ روح اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے مُبَارَک زمانے کے بعدیہ ایک بادشاہ گزرا ہے ،جس نے تین سوبیس(320 )سال عمرپائی ۔جب وفات کاوقت آیاتواس نے اپنی سلطنت کے تین نیک وپارسااورصاحب علم سرداروں کوبلایا اورکہا:''تم جانتے ہوکہ میں اب کس حالت میں ہوں اورمجھے کیاواقعہ پیش آنے والاہے۔تم لوگ سلطنت کے عظیم و افضل لوگوں میں سے ہو۔میں نہیں جانتاکہ تم تینوں میں سے امورِسلطنت کے لئے کون زیادہ بہتررہے گا؟اس لئے میں نے قوم کے بہترین لوگوں میں سے چھ(6)افراد کومنتخب کیاہے، وہ تم میں سے جسے مناسب سمجھیں میرے بعداپنابادشاہ مقررکرلیں۔تم ان کے فیصلے کوبخوشی قبول کرلینا۔خبردار!اختلاف سے بچناورنہ تم خودبھی ہلاک ہوجاؤگے اوراپنی رعایاکوبھی ہلاکت میں مبتلاکردو گے ۔ '' تینوں نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی عمردرازفرمائے ۔ ' ' باد شاہ نے کہا: '' موت ضرورآنی ہے اس سے بچانہیں جاسکتا۔تم میری باتوں پرضرورعمل کرنا۔'' پھراسی رات بادشاہ کاانتقال ہوگیا۔جن چھ سرداروں کو نئے بادشاہ کے انتخاب کااختیاردیاگیاتھاوہ سردارکسی ایک پرمتفق نہ ہوئے بلکہ دو،دو،سردارہرایک کے ساتھ ہو گئے ۔ جب ملک کے بزرگوں اورحکماء نے یہ اختلاف دیکھاتو کہا:'' تمہارے درمیان تو ابھی سے اختلاف شروع ہوگیا،سنو! ہمارے ملک میں ایک ایسا شخص ہے جو سب سے افضل ہے ،اس کی حکمت ودانائی میں کسی کوشک نہیں۔وہ جس کوبادشاہ مقرر کر دے گاوہ باعثِ برکت ہوگا ۔جاؤ! تم اس کے پاس چلے جاؤوہ فلاں پہاڑپرایک غارمیں رہتاہے ۔
چنانچہ، ان تینوں نے چھ سرداروں میں سے ایک کو عا ر ضی طورپرامورِ سلطنت کانگران بنایااورخود ''انطونس'' نامی راہب کے پاس چلے گئے اورحقیقتِ حال بیان کرتے ہوئے کہا:''آپ ہم میں سے جس پرراضی ہوجائیں گے وہی بادشاہ ہوگا۔''راہب نے کہا: ''لوگوں سے دورہوکرمجھے کچھ فائدہ نہ پہنچا۔میری اورلوگوں کی مثال تواس شخص کی طرح ہے جس کے جانوروں کے باڑے میں بھیڑیئے گُھس آئے ہوں وہ بھیڑیوں سے جان بچاکرایک اورگھرمیں پہنچے تو وہاں شیرموجودہوں۔''یہ سن کران تینوں نے کہا:''ہم جس کام کے سلسلے میں آئے ہیں اس کی طرف ہمارے ملک کے اہلِ علم حضرات نے راہنمائی کی ہے،ان کی رائے ہے کہ آپ کے مشورے میں برکت وبھلائی ہوگی ۔برائے کرم! آپ ہم میں سے جس کو بہتر گمان کرتے ہیں اس کی تعیین فرمادیں تاکہ وہ