| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
وخبیرپروردگارعَزَّوَجَلَّ تُوہماری چاہت کوخوب جاننے والاہے۔''ارشادفرمایا:''میں تم پر ایسی ایسی آزمائشیں اور مصیبتیں ڈالوں گاکہ جنہیں بلندوبالاپہاڑبھی برداشت نہیں کرسکتے ، کیااس صورت میں بھی تم صبروشکرکے ساتھ استقامت پرقائم رہو گے؟'' عرض کی : ''اے ہمارے پروردگارعَزَّوَجَلَّ !تُو جانتاہے کہ اب تک تُونے ہم پرجتنی مصیبتں نازل کیں ہم ان سب پر راضی رہے اورآئندہ بھی ہرحال میں تجھ سے راضی رہیں گے۔'' اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:''تم ہی میرے مخلص بندے ہو۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر494: ایک حاجت منداور امیرشخص
حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمن بن ابراہیم فِہْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ:''ایک غریب شخص کسی امیرکے پاس اپنی حاجت طلب کرنے گیاتودیکھاکہ وہ سجدہ کی حالت میں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعائیں مانگ رہاہے۔غریب شخص نے کہا:''یہ شخص توخود محتاج ہے پھرمیں اپنی حاجت اس سے کیوں بیان کروں؟مجھے کیاہوگیاکہ میں اُس کی بارگاہ میں اپنی حاجت بیان نہیں کرتا جوسب کی حاجتیں پوری کرنے والاہے۔امیرنے جب یہ آوازسنی تواس غریب کو دس ہزار(10000)درہم دیتے ہوئے کہا:'' یہ ساری رقم تجھے اس نے عطاکی ہے جس سے میں مانگ رہاتھا ۔جاؤ!یہ سارامال لے جاؤ!اللہ تعالیٰ اس میں بَرَکت دے۔''
سلمان بن ایوب کابیان ہے کہ''جب وہ غریب شخص واپس گیاتوراستہ میں ایک کنویں میں گرگیا۔وہاں کوئی ایساشخص نہ تھا جو اس کی مددکرتا۔جب اسے خلاصی کی کوئی راہ نظرنہ آئی تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزا ر ہوا: ''اے وہ ذات کہ عرش کے کناروں سے زمین کی سب سے نچلی تہہ تک اس کے سوا کوئی ایسانہیں جو عباد ت کے لائق ہو۔ بے شک تُواکیلاہی عبادت کے لائق ہے۔میرے خالق عَزَّوَجَلَّ !تُوبہترجانتاہے کہ اس وقت مجھ پرکیامصیبت نازل ہوئی ہے؟ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میری خلاصی کی راہ بنادے ۔''ابھی اس شخص کے دعائیہ کلمات مکمل بھی نہ ہونے پائے تھے کہ وہ کنوئیں سے نکل کر باہرزمین پر آگیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)