Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
391 - 412
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کوئی مسئلہ پوچھا،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اورروتے ہوئے فرمایا:''میرے بیٹے! پچانوے(95 )سال ہوگئے میں ایک دروازے کوکھٹکھٹارہاہوں ،اب وہ میرے لئے کھلنے والاہے۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ میرے لئے سعادت مندی کے ساتھ کھلے گایابدبختی کے ساتھ بس اب میں جواب کامنتظرہوں۔'' 

     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر نوسو(900)دینارقرض تھا۔قرض خواہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ہی موجودتھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی طرف دیکھا اور بارگاہِ خدوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزارہوئے:''اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ تونے رَہن کو مالداروں کے لئے دستا ویز بنایا۔میرے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ !تُومیرے قرض خواہوں کوان کاقرض ادافرمادے۔''

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابھی دعاسے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ کسی نے دروازے پردستک دیتے ہوئے کہا:''کیایہ احمدبن خَضْرَوَیْہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاگھرہے؟''لوگوں نے کہا:''ہاں!یہ انہی کاگھرہے؟''کہا:''ان کے قرض خواہ کہاں ہیں؟''یہ سن کرقرض خواہ باہر گئے توآنے والے اجنبی نے سب کاقرض اداکیااورچلاگیا۔پھر حضرتِ سیِّدُنااحمدبن خَضْرَوَیْہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاانتقال ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر493:                 مخلص بندے
    حضرتِ سیِّدُناجنید ِ بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں کہ:''ایک رات میں نے حضرتِ سیِّدُناسَرِی سَقَطِیِ علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ہاں قیام کیا۔جب رات کاکچھ حصہ گزر گیاتوآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے جنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!کیاتم سوگئے ہو؟''میں نے عرض کیـ: ''حضور!میں جاگ رہاہوں۔''فرمایا:ابھی ابھی میں نے خواب میں دیکھاکہ میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہ میں بُلاکر ارشاد فرمایا: ''اے سَرِی !کیاتُوجانتاہے کہ میں نے مخلوق کوکیوں پیدافرمایا؟''میں نے عرض کی :''اے میرے خالق عَزَّوَجَلَّ مجھے معلوم نہیں۔''ارشادفرمایا:''میں نے مخلوق کوپیداکیاتوسب نے مجھ سے محبت کادعویٰ کیا۔پھرمیں نے دنیا کو پیدا کیا تو دس ہزار(10000) میں سے نوہزار(9000)میری محبت سے غافل ہوکردنیاکی محبت میں کھوگئے۔پھر میں نے جنت کو پیدا فرمایاتوہزارمیں سے نو سو (900) میری محبت سے غافل ہوکرجنت کی محبت میں کھوگئے ۔ میں نے ان پرکچھ آلام و مصائب نازل کیئے توان مصیبتوں کی وجہ سے سومیں سے نوے (90)میری یادسے غافل ہوگئے۔بقیہ دس (10) بچے۔میں نے ان سے کہا:''نہ تو تم نے دنیاکاارادہ کیا،نہ جنت کی رغبت کی اورنہ ہی مصیبتوں کی وجہ سے بھاگے،بتاؤ تم کیا چاہتے ہو؟''انہوں نے کہا:''اے ہمارے علیم
Flag Counter