میں خلیفہ بنا ہوں کسی ایک کو بھی ناحق قتل نہیں کیا ۔''
یہ سن کر میں خاموش ہوگیاتو خلیفہ نے کہا:'' اور بتاؤ ۔''میں نے کہا:''لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے خادمِ خاص احمد بن ابوطیب کو قتل کروا دیا حالانکہ اس کی کوئی خیانت ظاہرنہ ہوئی تھی۔'' خلیفہ نے کہا :''اس نے مجھے کفر واِلحاد کی دعوت دی تھی۔ اب تم بتاؤ کیا میں نے اسے قتل کرواکر برا کام کیا ہے ؟میں نے اسے اس کی باطل دعوت کی سزا دی تھی اس کے علاوہ کوئی اور برائی بتاؤ جو مجھ سے سرزد ہوئی ہو۔'' میں نے کہا:''لوگ اُن تین شخصوں کے قتل کی وجہ سے آپ سے بیزار ہے جنہیں آپ نے صرف چند کھیروں کے بدلے قتل کروا دیا تھا۔''خلیفہ نے کہا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !قتل ہونے والے تینوں شخص وہ نہیں تھے جنہوں نے کھیرے چرائے تھے بلکہ قتل ہونے والے توخطرناک ڈاکوتھے، انہوں نے فلاں جگہ چوری کی تھی، فلاں جگہ ڈاکہ ڈالا تھا، وہ تو بدترین مجرم تھے، یہ علیحدہ بات ہے کہ انہیں کھیت میں قتل کیا گیا ۔بات دراصل یہ ہے کہ '' جب کھیت کے مالک نے ان کی شکایت کی اور تین سپاہیوں کو پکڑوادیا تومیں نے انہیں قید میں ڈالوادیااور دوسرے دن تین ڈاکوؤں کو کھیت میں لے جاکر قتل کروا دیا اور ان کے چہروں کو ڈھانپنے کا حکم دیا تاکہ لوگ انہیں پہچان نہ سکیں اور تمام فوج یہ جان لے کہ جب کھیرے چوری کرنے کے جرم میں قتل کر دیا جاتا ہے تو بڑے جرموں کی کتنی دردناک سزا ملے گی، میں نے ظلم و زیادتی روکنے کے لئے یہ طریقہ اپنایا تھا ۔باقی وہ تینوں جنہوں نے کھیرے چرائے تھے وہ ابھی تک قید میں موجود ہیں۔'' یہ کہہ کر خلیفہ نے ان تینوں کو بلوایا قید میں رہنے کی وجہ سے ان کی حالت تبدیل ہوچکی تھی ۔ خلیفہ نے ان سے کہا : ''بتاؤ تمہیں قید میں کیوں ڈالا گیا؟''کہا ہمیں چند کھیروں کی چوری کے جرم میں قید کردیا گیا تھا۔'' خلیفہ نے کہا:''اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم اپنی سابقہ غلطیوں سے تائب ہوجاؤ گے ؟''سب نے بیک زبان کہا:''جی ہاں۔'' یہ سن کرخلیفہ نے انہیں چھوڑدیااور بہت سے تحائف دیئے اور ان کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا ۔کچھ ہی دنوں میں خلیفہ کی یہ بات سارے شہر میں پھیل گئی اور خلیفہ پر ناحق قتل کرنے کی جو تہمت تھی وہ دور ہوگئی اور حقیقت واضح ہوگئی ۔
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کی مغفرت فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)