Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
389 - 412
درمیان ''اذان '' نشانی ہو گی۔ تم وقت سے پہلے اذان دے دینا میں سمجھ جاؤں گا اور تیری آواز سنتے ہی تیری مدد کو پہنچوں گا۔ جو تجھے تکلیف پہنچائے گا اس ظالم ترکی افسر کی طرح میں اُسے عبرتناک سزادوں گا۔ اب جاؤ اور اپنے کام کی پابندی کرو۔'' خلیفہ کی یہ بات سن کر میں سے وہاں سے آگیا۔ صبح ہوتے ہی یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی ہر خاص وعام کو میرے اختیارات کے متعلق معلوم ہوگیا اس دن سے لے کر آج تک ایک مرتبہ بھی ایسانہ ہوا کہ میں نے کسی کو انصاف دلوایا ہو اور اسے انصاف نہ ملا ہو۔ خلیفہ کے ڈر سے ہر شخص میری ہربات فوراً مان لیتا ہے۔ ابھی تک دوبارہ وقت سے پہلے اذان دینے کی نوبت نہیں آئی۔ یہ ہے میرا واقعہ ۔''یہ کہہ کر درزی اپنے کام میں مصروف ہوگیا اور میں گھر چلاآیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر491:            خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کی حکمتِ عملی
    ابو محمد عبداللہ بن حمدون کا بیان ہے، ایک دفعہ خلیفہ مُعْتَضِد باللہ شکار کے لئے گیا سپاہی ابھی پیچھے تھے میں خلیفہ کے ساتھ تھا کہ اچانک قریبی کھیت کے مالک نے چیخ وپکارشروع کردی۔خلیفہ نے اسے بلاکرشورمچانے کاسبب دریافت کیاتواس نے کہا:'' آپ کے لشکر کے چند سپاہیوں نے میرے کھیت سے کھِیر ے چرائے ہیں۔'' خلیفہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ'' مجرموں کو ہمارے سامنے پیش کرو۔'' تین شخصوں کولایا گیا۔ خلیفہ نے کھیت والے سے پوچھا:'' کیایہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمہارے کھیرے چُرائے ہیں؟'' اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ'' انہیں ہتھکڑیاں پہنا کر قید میں ڈال دو ۔'' دوسرے دن خلیفہ نے تین مجرموں کو بلایا اور حکم دیا کہ'' انہیں کھیرے کے کھیت میں لے جاکر قتل کردو۔'' لوگوں کو اس حکم سے بڑی کوفت ہوئی کہ صرف چند کھیروں کی خاطر تین جانوں کو قتل کروایا جارہا ہے، لیکن حکمِ شاہی کے سامنے کسی کو کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئی اورتین مجرموں کو قتل کردیا گیا۔ لوگوں نے خفیہ طورپراس واقعہ کی شدید مخالفت کی ،لیکن آہستہ آہستہ بات رفع دفع ہوگئی ۔کا فی عرصے کے بعد ایک رات میں خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھاکہ اس نے مجھ سے کہا:'' اگر لوگ ہمارے متعلق کوئی بری بات کہتے ہیں تو بتاؤ تاکہ ہم اپنی برائی کا ازالہ کریں۔'' میں نے کہا: ''امیرالمؤمنین میں ایسی کوئی برائی نہیں۔''خلیفہ نے کہا:'' میں تجھے قسم دیتا ہوں سچ سچ بتاؤ ۔''میں نے کہا:'' کیا آپ مجھے امان دیتے ہیں؟'' کہا:'' ہاں! تمہیں امان ہے، بتاؤ! مجھ میں کیا برائی ہے ؟''میں نے کہا:''عالی جاہ !آپ خون بہانے میں بہت جلدی کرتے ہیں، یہ بہت بری بات ہے ۔''خلیفہ نے کہا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جب سے
Flag Counter