Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
39 - 412
مرزبان مجوسی کے پاس جاؤ اورکہو کہ کل قاضی کی عدالت میں حاضر ہوجانا،میں نے اپنے مال کی وصولی کے لئے فلاں شخص کو وکیل بنادیاہے ۔''پھر جب مرزبان مجوسی قاضی کی عدالت میں آئے تو تم دعوی کرنا کہ اس پر میرا اتنا اتنا مال، قرض ہے۔ جب مرزبان قاضی کے سامنے اقرار کرلے گا اوررقم نہیں دے گاتو وہ اسے گرفتار کرکے تجھے تیرا مال دلو ادے گا۔''

    خُرَاسَانی فوراًمرزبان کے پاس گیااورکہا:''کل قاضی کی عدالت میں حاضر ہوجانا میں اپنے مال کی وصول کے لئے فلاں شخص کو اپنا وکیل بنا رہا ہوں۔'' صبح جب مرزبان اورخُرَاسَانی قاضی حفص بن غیاث کی عدالت میں پہنچے تو خُرَاسَانی نے کہا: ''قاضی صاحب!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو سلامت رکھے،اس شخص پر میرے انتیس( 29)ہزار درہم ہیں۔''قاضی صاحب نے مجوسی سے کہا :'' اے مجوسی تم کیا کہتے ہو؟کیا اس کا دعویٰ درست ہے ؟''مجوسی نے کہا:'' قاضی صاحب!اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اس شخص کا دعویٰ درست ہے۔'' قاضی صاحب نے کہا:'' اے خُرَاسَانی !اس نے تمہارے مال کا اقرار کرلیاہے، اب تم کیا چاہتے ہو؟''کہا:'' حضور! اس سے میرا مال دلوا دیجئے۔'' قاضی صاحب نے کہا:''اے مجوسی اس کا مال اداکرو۔''مجوسی نے کہا: ''مال کی ادائیگی تو وزیر (جَعْفَربن یحیی)کی والدہ کے ذمہ ہے ۔''قاضی صاحب نے اسے ڈانتے ہوئے کہا:'' تُوتو احمق ہے ، ابھی تو نے اقرار کیا ہے اوراب کہہ رہا ہے کہ وزیر کی والدہ کے ذمہ ہے ۔ اے خُرَاسَانی تم بتاؤ اب اس مجوسی کا کیاکیا جائے ؟'' کہا: ''حضور! اگریہ میرا مال ادا کرتاہے تو ٹھیک، ورنہ اسے قید کرلیجئے ۔'' قاضی صاحب نے کہا :'' تم کیا کہتے ہو؟''اس نے پھر وہی جواب دیا کہ مال تو وزیر کی والدہ کے ذمے ہے ۔''قاضی صاحب نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے قیدکرلو۔ 

     جب اُمِ جَعْفَر کو مجوسی کی خبر ہوئی توبڑی غضبناک ہوئی اورجیلر کی طرف یہ پیغام بھیجا:'' قاضی نے مرزبان کو گرفتارکرلیاہے، اس کی طرف توجہ کرو اوراسے رہا کردو۔'' جیسے ہی جیلر کو اُمِ جَعْفَر کا حکم ملا اس نے فوراًمرزبان مجوسی کو رہا کردیا۔ جب قاضی حفص بن غیاث کو معلوم ہوا کہ مجوسی کو رہا کردیا گیا ہے تو اس نے کہا:'' میں قید کرتاہوں اورجیلر آزاد کردیتاہے ۔ اب میں اس وقت تک عدالت نہ جاؤں گاجب تک مرزبان مجوسی دوبارہ قید میں نہ آجا ئے ۔'' جیلر کو قاضی صاحب کی یہ بات معلوم ہوئی تو فوراً امِ جَعْفَر کے پاس گیا اورکہا:'' میں توبڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں ،اگر امیر المؤمنین نے مجھ سے پوچھ لیا کہ تم نے کس کے حکم سے مرزبان مجوسی کو آزادکیاہے؟تو میں کیا جواب دوں گا؟ براہ کرم مرزبان کوواپس جیل بھیج دیں ۔'' چنانچہ مرزبان دوبارہ قیدکرلیا گیا۔

    اُمِ جَعْفَرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے پاس گئی اورکہا: ''آپ کا قاضی نادان ہے، اس نے میرے وکیل کو گرفتار کرکے بہت ذلیل ورُسوا کیاہے ۔ آپ قاضی کو حکم دیں کہ وہ یہ مقدمہ حضرت سیِّدُنا امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عدالت میں بھیج دے۔'' ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے اُمِ جَعْفَر کے اصرار پر حکم جاری فرمادیا کہ تم یہ مقدمہ، امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے کردو۔ اورمجوسی کا یہ مقدمہ سرکاری رجسٹروں میں درج نہ کیا جائے۔جب قاضی حفص بن غیاث کو معلوم ہوا کہ خلیفہ نے یہ