'' اے عبداللہ بن ادریس !اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اور آپ کو سلامت رکھے ، ہم نے سوال کیا کہ ہمارے کاموں میں ہمارے معاون بن جاؤ لیکن تم نے انکا ر کیا ، پھرہم نے مال بھیجوایا تم نے وہ بھی قبول نہ کیا ، میری ایک بات ضرور مان لینا ، جب تمہارے پاس میرا بیٹا مامون آئے تو اسے علمِ حدیث سکھانا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رقعہ پڑھ کر خادم سے کہا:'' خلیفہ سے کہہ دینا کہ اگر تمہارا لڑکا سب لوگو ں کے ساتھ مل پڑھنا چاہے تو اسے بھیج ديں، میں علیحدہ سے ا سے نہیں پڑھاؤں گا۔ اگر دوسرے طالب علموں کے ساتھ مل کر پڑھے گا تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ضرور علمِ حدیث سکھاؤں گا ۔''
پھر ہم وہاں سے چل دئیے ایک جگہ نماز کے لئے رکے تو سپاہی کوسوتے ہوئے دیکھا جو سردی سے ٹھٹھرا جارہا تھا۔میں نے اپنی چادر اس پر ڈالتے ہوئے کہا :'' جب تک ہم وضو و نماز سے فراغت پائیں تب تک میری یہ چادر اس کے جسم کو سردی سے بچائے رکھے گی۔'' اتنے میں حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی آگئے انہوں نے حفص بن غیاث کو مخاطب کر کے کہا: '' اے حفص ! اپنے شہر سے چلتے وقت جب تم اپنی داڑھی کو مہندی لگاکر حمام میں گئے تھے تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ عنقریب تمہیں قاضی کا عہد ہ پیش کیا جائے گا اور تم اسے قبول کر لوگے ،دیکھو ایسا ہی ہوا ۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب مرتے دم تک میں تم سے کلام نہیں کرو ں گا ۔''
حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ:''پھر واقعی حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مرتے دم تک حفص بن غیاث سے گفتگو نہ کی ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)