حکم جاری کیا ہے اورقاصد میرے پاس پہنچنے ہی والا ہے تو فوراًوہ عدالت گئے اور اس مجوسی کے خلاف تمام ریکارڈ سرکاری کاغذات میں لکھنے لگے۔ ابھی یہ کام جاری تھا کہ خلیفہ کاقاصد آگیا اس نے آتے ہی کہا:''امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کو پیغام آیا ہے۔ قاضی نے کہا:'' تھوڑی دیر رک جاؤ میں ایک بہت اہم کام میں مصروف ہوں اس سے فارغ ہوکرخط پڑھوں گا۔ ''قاصد نے کہا:'' آپ پہلے یہ خط پڑھ لیں کہ اس میں امیر المؤمنین نے آپ کو کیا حکم دیا ہے۔'' لیکن قاضی حفص بن غیاث اپنے کام میں مصروف رہے۔
جب تمام ریکارڈسرکاری کاغذات میں درج کردئیے توقاصد سے خط لے کر پڑھا اور کہا:'' امیر المؤمنین کو میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ آپ کا خط پڑھنے سے پہلے ہی میں تمام ریکارڈ درج کرچکا تھا۔'' قاصد نے کہا:''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیاہے، آپ نے امیر المؤمنین کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے ۔'' کہا:'' جاؤ اورجو تمہیں پسند ہو وہی امیر المؤمنین سے کہہ دینا۔''قاصد خلیفہ کے پاس آیا اورسارا واقعہ کہہ سنایا ۔قاصد کی بات سن کر امیر المؤمنین نے ہنستے ہوئے کہا:'' کوئی ایسا شخص لے کر آؤ جو حفص بن غیاث کے پاس تیس ہزاردرہم پہنچا دے۔''پیغام ملتے ہی یحیی بن خالد حاضرہوا اوررقم لے کر قاضی حفص بن غیاث کے پاس پہنچا آپ عدالت سے واپس آرہے تھے۔یحیی نے کہا :'' قاضی صاحب!آج تو تم نے امیر المؤمنین کو خوش کر دیا ہے اورانہوں نے تمہارے لئے تیس ہزار درہم بھجوائے ہیں، آخر تم نے ایسا کون سا عمل کیاہے؟''قاضی صاحب نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ امیرا لمؤمنین کی خوشیاں دوبالاکرے اوران کی حفاظت فرمائے ۔میں نے تو روزانہ کے معمولات سے زیادہ کوئی کام نہیں کیا۔''
یحیی بن خالد نے کہا:'' ذرا سوچو! تم نے ضرور کوئی خاص کام کیاہے ۔'' قاضی صاحب نے غوروفکر کرکے کہا : ''اورتو کچھ خاص کام نہیں کیا، ہاں !اتنا ضرورہے کہ آج میں نے مجوسی کے خلاف ریکارڈ سرکاری کاغذات میں درج کیاہے کہ اس نے ناحق ایک خُرَاسَانی کی رقم دبائی ہوئی تھی۔'' یحیی بن خالد نے کہا :''بس تیرے اسی کام نے امیر المؤمنین کو خوش کیا ہے ۔''یہ سن کر قاضی صاحب نے اللہ ربُّ العزَّت کا شکر ادا کیا۔
جب اُمِّ جَعْفَر کو معلوم ہواکہ خلیفہ نے قاضی صاحب کو انعام واکرام سے نوازاہے تو وہ خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے پاس گئی اورکہا:'' امیرالمؤمنین! آپ قاضی کومعزول کردیں۔ہارون الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید نے انکار کیا۔ وہ اصرار کرتی رہی۔ بالآخر خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی جگہ حضرت سیِّدُنا امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو قاضی مقرر کردیا اور آپ کو کوفہ کا قاضی بنادیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تیرہ سال تک کوفہ کے قاضی رہے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)