Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
388 - 412
تومیں خاموش رہا پھر یہ سوچ کر کہ شاید اس عورت کی رہائی پر یہ سپاہی میری مدد کریں میں نے پکارکر کہا:'' میں یہاں موجود ہوں اور میں نے ہی اذان دی ہے۔'' سپاہیوں نے کہا:'' جلدی نیچے آؤ، تمہیں امیرالمؤمنین بلارہے ہیں۔'' میں ان سپاہیوں کے ساتھ خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے پاس آیا ۔اس نے بڑی شفقت سے مجھے اپنے قریب بٹھایا اور تسلی دینے لگا، میرا خوف جاتا رہا اور جب بالکل مطمئن ہوگیا تو کہا:'' تجھے کس نے مجبور کیا کہ تو وقت سے پہلے اذان دے کر مسلمانوں کو دھوکہ دے؟ذراسوچ تو سہی کہ مسافر تیری اذان سے دھوکہ کھا کر سفر شروع کر ديں گے، روزے دار کھانے پینے سے رک جائیں گے حالانکہ ابھی سحری کا وقت باقی ہے۔ بتا! کس چیز نے تجھے اس کام پر مجبور کیا؟'' میں نے ڈرتے ہوئے کہا:'' اگر امیرالمؤمنین مجھے جان کی امان عطا فرمائيں تو میں کچھ عرض کرتا ہوں۔'' خلیفہ نے کہا:'' تمہیں امان دی جاتی ہے، سچ سچ بتاؤ ۔''

     میں نے اس ظالم ترکی افسر اور عورت کا سارا واقعہ کہہ سنایا اور اپنے زخم بھی خلیفہ کو دکھائے۔ خلیفہ نے غضبناک ہوکر سپاہیوں کو حکم دیا کہ'' ابھی ابھی اس ترکی افسر اورااس مظلومہ کو میرے سامنے حاضر کرو۔'' کچھ ہی دیر میں سپاہی اس ترکی افسر اور عورت کو خلیفہ کے پاس لے آئے ۔خلیفہ نے مجھے ایک کمرے میں بھیج کر عورت سے حقیقتِ حال دریافت کی تو اس نے بھی وہی کچھ بتایا جو میں نے بتایا تھا۔ خلیفہ نے چند قابلِ اعتماد عورتوں اور سپاہیوں کے ساتھ عورت کو اس کے گھر بھیج دیا اور اس کے شوہر کو پیغام بھجوایا کہ اس عورت کے ساتھ احسان اور بھلائی والا معاملہ کیاجائے کیونکہ یہ بے قصور ہے اگر اس پر سختی کی گئی تو سخت سزا دی جائے گی۔ پھر خلیفہ نے مجھے بلایا اور اس ترکی افسر کو مخاطب کر کے پوچھا :''بتا! تجھے کتنی تنخواہ ملتی ہے ؟بتا! تجھے کاروبار سے کتنا نفع ملتا ہے ؟ تیرے پاس کتنی کنیزیں اور لونڈیاں ہیں؟تیری سالانہ آمدنی کتنی ہے ؟''ترکی افسر نے اپنی کثیر آمدنی اور کنیزوں کے بارے میں بتایاتو خلیفہ نے کہا:'' اتنی نعمتیں ملنے کے باوجود تو نے اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے ۔ کیا تجھے حلال چیزیں کافی نہ تھیں؟ جو تونے حرام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اب تجھے دردناک سزا دی جائے گی۔ اے سپاہیو! جلدی چمڑے کا تھیلا اور چونا لے کر آؤ۔'' چمڑے کا مضبوط تھیلا اور چونا لایا گیا ،اس ترکی کو تھیلے میں بند کرکے اوپر سے چونا ڈال کر ہتھوڑوں سے ضربیں لگائی گئیں۔کچھ ہی دیر میں اس ظالم کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اوروہ موت کے گھاٹ اُتر گیا۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ'' اس نامراد کی لاش دریائے دِجلہ میں پھینک دی جائے۔''

    تمام فوجی افسر، وزراء و اعلیٰ عہدیداران یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ افسر جس کے ذمے تیرا مال تھا وہ بھی وہاں موجود تھا۔ خلیفہ نے مجھے مخاطب کرکے کہا:''اے شیخ!ہمارے اس ملک میں آپ جہاں بھی کوئی برائی دیکھیں، جہاں کسی ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں تو اسے روکیں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔'' پھر ایک بڑے افسر کی طرف اشارہ کرکے کہا:'' چاہے یہ اعلیٰ افسر ہی کیوں نہ ہو،تم اسے برائی سے روکنا اور اگر کوئی تمہارے خلاف جرأ ت کرے، تمہاری بات نہ مانے تو مجھے فوراً اطلاع کر دینا، ہمارے اور تمہارے