Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
387 - 412
جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں بَرَکت دے ۔''میں نے کہا:'' عالی جاہ !مجھے آپ سے ایک اور کام بھی ہے۔'' کہا:''بتاؤ۔''میں نے کہا: ''اس ظالم افسر کے سامنے بڑے بڑے لوگ بے بس ہوگئے ،لیکن آپ کی بات اس نے فوراً مان لی،آخر وہ آپ کی اتنی تعظیم کیوں کرتا ہے ؟''امام صاحب نے کہا :''تمہارا مال تمہیں مل چکا ہے۔ جاؤ!اب اپنا کام کرو اور مجھے بھی کام کرنے دو ۔''میں نے جب بہت اصرار کیا تو امام صاحب نے اپنا واقعہ کچھ یوں بیان کیا:

    ''ہمارے گھر کے راستے میں ایک ترکی افسر کاگھر ہے۔ ایک مرتبہ جب میں اپنے گھرجارہاتھا تودیکھا کہ نشے میں بدمست ترکی افسر ایک عورت کوپکڑکر اپنے گھر کی جانب کھینچ رہاتھا،وہ بے چاری مدد کے لئے پکارتی رہی، لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا۔ وہ رورو کر کہہ رہی تھی:اے لوگو!مجھے اس ظالم سے بچاؤ !میرے شوہر نے قسم کھائی ہے کہ اگر میں نے اُس کے گھر کے علاوہ کسی اور کے ہاں رات گزاری تو وہ مجھے طلاق دے دے گا۔ اگر یہ ظالم مجھے اپنے گھر لے گیا تو میرا گھر برباد ہوجائے گا اور میں رسواہوجاؤں گی، خداکے لئے مجھے اس ظالم سے نجات دلاؤ ۔وہ مظلومہ اسی طرح فریاد کرتی رہی، لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو تیار نہ ہوا۔ میں جذبۂ ایمانی کی بدولت اس ظالم کی طرف بڑھا اور عورت کو چھوڑنے کے لئے کہا، اس نے ایک لوہے کا ڈنڈا میرے سر میں مارا اور خوب طمانچے مارے پھراس عورت کو زبردستی اپنے گھر لے گیا۔

     میں زخمی حالت میں غمگین وپریشان اپنے گھر آیا زخم سے خون دھوکر پٹی باندھی اور کچھ دیر بستر پر لیٹ گیا۔ پھر عشاء کی نماز پڑھنے مسجد گیا اور نماز کے بعد تمام نمازیوں کو اس ظالم ترکی افسر کی حرکت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا:'' تم سب میرے ساتھ چلو! یاتو وہ عورت کو چھوڑ دے گا ورنہ ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔'' لوگوں نے میری تائید کی اور ہم اس کے گھر کی جانب چل دیئے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے عورت کی رہائی کا مطالبہ کیا تو اس ظالم ترکی افسر کے کئی غلاموں نے مل کرہم پر ڈنڈوں سے حملہ کیا، سب مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے ،چند غلاموں نے مجھے پکڑ کر خوب مارا اور شدید زخمی کر دیا۔ میرا ایک پڑوسی مجھے اٹھاکر گھر لے آیا۔گھر والوں نے زخموں پر دوائی لگاکر پٹی باندھ دی ،مجھے کچھ دیر نیند آگئی، لیکن کچھ ہی دیر بعد درد کی شدت سے آنکھ کھل گئی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس بے چاری کو کس طرح بچایا جائے، اگر فجر طلوع ہونے تک وہ اسی ظالم کے قبضہ میں رہی تو اس کو طلاق ہوجائے گی اور اس کا گھر برباد ہوجائے گا۔ اے کاش !طلوعِ فجر سے قبل ہی وہ ظالم اسے چھوڑ دے۔ پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ اس ظالم نے شراب پی رکھی ہے اسے اوقات کی معلومات بھی نہیں اگر میں ابھی اذان دے دوں تو وہ یہی سمجھے گا کہ فجر کا وقت ہوگیا ہے اور وہ اس عورت کو چھوڑ دے گا۔ اس طرح کم از کم اس بے چاری کا گھر تو بچ جائے گا ۔بس یہ خیال آتے ہی میں گرتا پڑتا مسجد پہنچا اور مینارے پر چڑھ کر بلندآواز سے اذان دی، اور اس ترکی افسر کے گھر کی طرف دیکھنے لگا ۔ ابھی کچھ دیرہی گزری تھی کہ باہر کی ساری سڑک گھوڑوں اور سپاہیوں سے بھر گئی ۔سپاہی بلند آواز سے کہہ رہے تھے :'' اس وقت اذان کس نے دی ہے؟'' پہلے