جوتمہارامال واپس دلوادے گااورتمہیں خلیفہ کے پاس شکایت کرنے کی حاجت نہ ہوگی ۔ میں اس کے ساتھ چل دیا۔ وہ مجھے ایک درزی کے پاس لے گیا جو قریبی مسجد میں امام بھی تھے۔ میرے دوست نے میراحال بیان کیااورآنے کامقصدبتایاتوامام صاحب فوراًساتھ ہولئے،ہم اس افسرکے گھرکی طرف چل دیئے۔میں نے اپنے دوست سے کہا:''تم نے مجھے،اپنے آپ کو اوراس غریب درزی کومصیبت میں ڈال دیاہے۔ وہ ظالم افسر تو بڑے بڑے لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرتا ،وزیر جیسے بااثر شخص کی سفارش اس کے سامنے کچھ کام نہ کر سکی ،پھر بھلا اس غریب درزی کی بات کو وہ کیا اہمیت دے گا ۔ میری بات سن کر میرے دوست نے مسکراتے ہوئے کہا :''تم خاموشی سے دیکھتے رہو ہوتا کیا ہے؟ '' میں خاموش ہوکر چلتا رہا، جیسے ہی ہم اس ظالم افسر کے گھر کے قریب پہنچے ،اس کے غلاموں نے بڑے باادب طریقے سے آگے بڑھ کر درزی کا ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا:'' عالی جاہ! آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے؟ ہمارا مالک ابھی ابھی سفر سے آیا ہے اگر آپ حکم دیں توہم فوراً اسے بلا لاتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو اندر تشریف لے چلیں اور خدمت کا موقع دیں، ہمارا مالک کچھ ہی دیر میں آجائے گا۔''درزی نے کہا:''چلو ہم اندر چل کر بیٹھ جاتے ہیں۔''
ہم ایک خوبصورت کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعدوہ افسر آیا اور درزی کو دیکھتے ہی بہت تعظیم وتوقیر کرتے ہوئے بڑے خوشامدانہ لہجے میں بولا:'' حضور! ابھی ابھی سفر سے واپسی ہوئی ہے میں اس وقت تک سفر کے کپڑے تبدیل نہیں کروں گا جب تک آپ کے آنے کا مقصدپورانہ کردوں،حکم فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟'' اما م صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:'' فوراََاس کا مال اسے دے دو۔'' افسر نے کہا :''عالیجاہ !اس وقت میرے پاس صرف پانچ ہزار(5000)درہم ہیں، آپ اس سے کہیں کہ فی الحال یہی رقم قبول کر لے اور بقیہ رقم کے بدلے میرا سامانِ تجارت رہن (گر و ی ) رکھ لے، میں ایک مہینے کے اندر اندر اس کی رقم واپس کردوں گا۔'' درز ی (امام صاحب )نے میری طرف دیکھا تو میں نے فوراً یہ شرط قبول کر لی۔ افسر نے پانچ ہزار (5000)درہم اور سامانِ تجارت میرے حوالے کیا ،میں نے امام صاحب اور اپنے دوست کو گواہ بنایا کہ'' اگر ایک ماہ کے اندر اندر اس نے میری رقم واپس نہ کی تو میں اپنی رقم کی مقدار کے مطابق اس کا سامانِ تجارت بیچنے کااختیا رکھتا ہوں۔'' پھر دستاویز پر دستخط ہوئے اور ہم واپس آگئے ۔میں اپنا حق ملنے پر بہت خوش تھا اور حیران بھی تھا کہ نہ جانے اس امام صاحب میں ایسی کون سی طاقت ہے جس کی وجہ سے ظالم افسراتنامہربان ہوگیا اور اس کی اتنی تعظیم وتوقیر کی۔ بہرحال ہم واپس درزی کی دکان پر آئے، تو میں نے سارا مال درزی کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی بَرَکت سے مجھے میرا مال واپس دلوا دیاہے، میں اپنی خوشی سے کچھ مال آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں، آپ اس رقم میں سے تہائی مال یا نصف مال قبول فرمالیں۔''
امام صاحب نے کہا :''کیاتم ایک اچھے کام کا بدلہ بُری چیز سے دیناچاہتے ہو؟ مَیں اس میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا۔