| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
ایک دو میل چل کر مہمان تلاش نہ کرلوں۔ آج آپ میرے مہمان ہیں ۔''نوجوان کی یہ بات سن کر میں اس کے ساتھ چل دیا۔ کچھ دور بالوں کا بنا ہوا ایک خیمہ نظرآیا، اس نے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا :'' اے میری بہن! اے میری بہن ۔'' اندر سے کسی لڑکی کی آواز آئی: لَبَّیْک !( میں حاضر ہوں )میرے بھائی ! نوجوان نے کہا:'' مہمان کی تعظیم کرو۔''
لڑکی نے کہا:'' ٹھہرو! پہلے میں اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرلوں جس نے ہمارے ہاں مہمان بھیجا ہے ۔''یہ کہہ کر اس نے نماز پڑھی ۔ نوجوان مجھے خیمے میں بٹھاکر جانور ذبح کرنے چلا گیا ۔میری نظر اس لڑکی پر پڑی تو مجھے اس کا چہرہ سب سے زیادہ حسین نظر آیا۔ لڑکی نے کہا:'' میری طرف نہ دیکھئے! مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے شہنشاہ محمد ِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمان ہم تک پہنچا ہے کہ ''آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو ) دیکھنا ہے۔''(سنن ابی داؤد،کتاب النکاح،باب مَا یُؤْمَرُ بِہِ مِنْ غَضِّ الْبَصَر، الحدیث۲۱۵۲، ص۱۳۸۱)
سنئے! میں آپ کی بے عز تی نہیں کر رہی اورنہ ہی آپ کو ڈانٹ رہی ہوں بلکہ میرا مقصد آپ کو اَدَب سکھانا ہے تاکہ آپ دوبارہ ایسی حرکت نہ کریں۔'' لڑکی کی یہ بات سن کر میں بہت شرمندہ ہوا ۔جب رات ہوئی تو میں اور نوجوان خیمے سے باہر آگئے اور لڑکی خیمے میں ہی رہی ۔میں ساری رات خیمے کے اند رسے قرآنِ پاک کی تلاوت سنتا رہا،آوازمیں سوز وگُداز تھا ۔ صبح میں نے نوجوان سے پوچھا:''قرآنِ پاک کی تلاوت کون کررہا تھا ؟'' کہا:'' میری بہن اسی طرح ساری ساری رات عبادت کرتی ہے۔ '' میں نے کہا :'' وہ عورت ہے اور تُو مرد، تجھے اس سے زیادہ عبادت کرنی چاہے؟''نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! کیا آپ نہیں جانتے کہ وہی پر وردگا ر عَزَّوَجَلَّ نیک اعمال کی توفیق دینے والا اور وہی عزت وذلت دینے والا ہے۔''
حکایت نمبر490: بااختیار درزی اور ظالم افسر
قاضی ابو الحسین محمد بن عبدالواحد ہاشمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بیان کرتے ہیں کہ ''خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے دورِ خلافت میں ایک تاجرکا کسی سرکاری عہد یدار پر بہت سا مال قرض تھا۔ جب بھی مطالبہ کیا جاتا وہ حیلے بہانے کرکے تاجر کو واپس کردیتا۔ اس تاجر کا بیان ہے: '' جب میں نے دیکھا کہ میرا مال کسی طریقے سے نہیں مل رہا تو میں نے اہلِ ثروت اور اعلیٰ عہدیداروں سے بات کی، حتی کہ وزیر سے بھی سفارش کروائی، لیکن مجھے میرا مال نہ مل سکا۔ اب صرف خلیفہ تک شکایت پہنچانا باقی تھی، لیکن یہ آسان کام نہ تھا۔ ایک دن مجھے میرے ایک دوست نے کہا:'' آؤ! میرے ساتھ چلو،میں تمہیں ایک ایسے شخص کے پاس لے چلتاہوں