Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
384 - 412
اور مجھے سب کچھ سچ سچ بیان کردینا چاہے۔ یہی سوچ کر میں امیرِ بصرہ کے پاس آیا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ میری بات سن کر امیرِ بصرہ غصے سے کانپتا ہو ا بولا: '' میرے حکم کی نافرمانی کی گئی۔ اے غلام!جلدی سے تلوار لاؤ۔'' غلام تلوار لے کر حاضر ہوا تو امیر نے مجھ سے کہا: ''اس غلام کا ہاتھ پکڑ کر اس شخص کے پاس لے جاؤ، جب وہ باہر آئے تو اس کی گردن اُڑا دو اور سر ہمارے پاس لے آؤ۔'' میں یہ حکمِ شاہی سن کربڑاپریشان ہوا، لیکن مجبورتھا، انکار نہ کر سکا، میں بادِل نخواستہ (یعنی نہ چاہتے ہوئے) واپس آیا اور دروازے پر پہنچ کر سلام کیا۔ اس کی زوجہ نے روتے ہوئے دروازہ کھولا اور ایک جانب ہٹ کر مجھے اندر بلا لیا ۔ میں نے گھر میں داخل ہو کر پوچھا :''تمہار ا اور ابو عبداللہ کا کیا حال ہے ؟'' کہا:'' آپ سے ملاقات کے بعد اس نے کنوئیں سے پانی نکال کر وضو کیااور نماز پڑھی۔ پھر میں نے اس کی یہ آواز سنی :

    ''اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ !اب مجھے مہلت نہ دے اور اپنی بارگاہ میں بلالے ۔'' یہ کہتے ہوئے وہ زمین پر لیٹ گیا، میں قریب پہنچی تو اس کی روح عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر چکی تھی، یہ دیکھیں اب گھر میں اس کا بے جان جسم پڑا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا تو واقعی ایک جانب اس کی میت رکھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی زوجہ سے کہا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی!ہمارا قصہ بہت عجیب ہے ۔ یہ کہہ کر میں امیرِ بصرہ محمدبن سلمان کے پاس آیا اور ساری بات بتائی ۔'' اس نے کہا: '' میں اس کی نماز جنازہ ضرور پڑھوں گا۔'' کچھ دیر بعد اس کی موت کی خبر پورے بصرہ میں پھیل گئی ۔امیرِ بصرہ اور دوسرے بے شمار لوگوں نے اس کے جنازہ میں شرکت کی ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر489:             ملتِ ابراہیمی کاپیروکار
     حضرتِ سیِّدُنامحمد بن سلیمان قُرَشِی علیہ رحمۃاللہ القوی سے منقول ہے کہ ''ایک مرتبہ یمن جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک خوبصورت نوجوان نظر آیا اس کے کانوں میں بالیاں تھیں، جن کے عمدہ وخوشنما موتیوں کی چمک سے اس کا چہر ہ چمک رہا تھا۔وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے ہوئے یوں کہہ رہاتھا :'' آسمانوں کے بادشاہ کی وجہ سے میری عزت ووقار ہے ۔وہ غالب وقدرت والا ہے ،اس میں کچھ نقص نہیں،اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔'' میں نے قریب جاکر سلا م کیا۔ اس نے کہا:''میں اس وقت تک سلام کا جواب نہیں دوں گا جب تک آپ میراحق ادا نہ کریں۔ ''میں نے کہا:'' تمہارا کون سا حق ہے ؟''کہا: ''میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے دین کا پیروکارہوں۔ میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک
Flag Counter