رہے، اب کچھ دنوں سے تم نہیں آرہے، اس کی وجہ کیا ہے؟'' کہا :''میں آپ لوگوں کو سچ سچ بتاتاہوں، میں جو کپڑے پہن کر آپ کی محفل میں حاضر ہوتا تھا وہ میرے ایک دوست کے تھے، جو مسافر تھا۔جب وہ اپنے وطن واپس چلا گیا تو میرے پاس دوسرے کپڑے نہ تھے جنہیں پہن کر آپ کے پاس آتا،میرے نہ آنے کی وجہ یہی ہے ، اچھا! ان باتوں کو چھوڑ یں یہ بتائیے،آپ کیا پسند فرمائیں گے، میرے ساتھ گھر چلیں اور اس رزق سے کھائیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں عطا فرمایاہے۔'' ہم نے کہا:'' ٹھیک ہے! ہم چلتے ہیں ۔''پس ہم اس کے ساتھ چل دیئے،اس نے ایک مکان کے قریب رک کر سلام کیا اور اندر داخل ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ہمیں اندربلاکر بوریوں سے بَنی ہوئی ایک چٹائی پر بٹھایا۔ ذبح کئے ہوئے پرندے اپنی زوجہ کے حوالے کئے، زندہ پرندے بازار لے جاکر بیچے اوران سے ملنے والی رقم سے روٹیاں خرید لایا، اتنی دیر میں اس کی زوجہ سالن تیا ر کرچکی تھی۔ اس نے روٹی اور پرندوں کا گوشت ہمارے سامنے رکھتے ہوئے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے کر کھائیے ۔''
ہم نے کھاناکھاتے ہوئے آپس میں کہا :''دیکھو! ہمارے اس دوست کی معاشی حالت کیسی ہے ! ہمارا شمار بصرہ کے معززین میں ہوتا ہے، افسوس ! ہمارے ہوتے ہوئے اس کی یہ حالت!'' یہ سن کر ہمارے ایک دوست نے کہا: ''پانچ سو (500) درہم میرے ذمہ ہیں ۔''دوسرے نے کہا:'' تین سو(300) درہم میں دوں گا۔'' اس طرح ہم سب نے حسبِ حیثیت درہم دینے اور دوسرے اہلِ ثروت سے دِلوانے کی نیتیں کیں۔ جب حساب کیا تو تقریباً پانچ ہزار(5000)درہم ہو چکے تھے ۔ہم نے کہا: ''ہم یہ ساری رقم اکٹھی کرکے اپنے اس دوست کی خدمت کریں گے۔''
چنانچہ، ہم اپنے میزبان کا شکریہ اداکر کے شہر کی جانب چل دیئے۔ جب ہم کھجور سُکھانے کے میدان کے قریب سے گزرے توبصرہ کے امیر محمد بن سلمان نے اپنا ایک غلام بھیج کرمجھے بلوایا۔مَیں اس کے پاس پہنچا تو اس نے ہمارا حال پوچھا۔ میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا اور بتایاکہ ہم اس غریب دوست کی امداد کرنا چاہتے ہیں ۔ امیرِ بصرہ محمد بن سلمان نے کہا:'' میں تم سے زیادہ نیکی کرنے کا حق دار ہوں۔'' پھر اس نے دراہم سے بھری تھیلیاں منگوائیں اور ایک غلام سے کہا:'' یہ ساری تھیلیاں اٹھا لو اور جہاں رکھنے کا حکم دیا جائے، وہاں رکھ کرآجانا۔'' میں بہت خوش ہوا اپنے دوست ابو عبداللہ کے مکان پر پہنچ کر دستک دی ، دروازہ خود ابو عبداللہ نے کھولا۔ غلام اور رقم کی تھیلیاں دیکھ کراس نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میں نے اس پر بہت بڑی مصیبت توڑ دی ہو۔ اس کا انداز ہی بدل چکا تھا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا:''یہ سب کیا ہے ؟کیاتم مجھے مال کے فتنے میں ڈالنا چاہتے ہو؟''میں نے کہا : '' اے ابو عبداللہ !ذرا ٹھہرو! میں تمہیں سب بات بتاتا ہوں۔'' یہ کہہ کر میں نے اسے ساری بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ یہ مال بصرہ کے امیر محمد بن سلمان نے بھجوایا ہے۔ بس یہ سننا تھا کہ وہ مجھ پر بہت غضبناک ہوا اور گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کردیا، میں باہر بے چینی کے عالم میں ٹہلتا رہا، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ امیرِ بصرہ کو کیا جواب دوں۔ بالآخر یہی فیصلہ کیا کہ سچ ہی میں نجات ہے