| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
خلافِ توقع وہ میری جانب متوجہ ہوئی اور کہا:'' میں دلْیَہ کھانا چاہتی ہوں۔'' میں اس کے کلام سے خوش ہوا اور قسم کھا لی کہ میں اپنے ہاتھوں سے دلیہ تیار کروں گا۔ چنانچہ، میں نے آگ جلائی اور دیگچی میں آٹا وغیرہ ڈال کر اپنے ہاتھ سے پکانے لگا۔ وہ کنیز میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور اپنی بیماری اور غم کے متعلق مجھے بتانے لگی۔ میں اس کی باتوں میں ایسا مگن ہوا کہ آگ نے میرا سارا ہاتھ جلا ڈالا اور مجھے خبرتک نہ ہوئی۔ اتنے میں میری خادمہ آئی اورپکار کر کہا :''اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھو !آگ نے جلا کر اسے بیکار کردیا ہے۔''میں نے چونک کر ہاتھ اٹھایا توواقعی وہ جل کر کوئلہ ہوچکا تھا ۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابو العبّاس بن عَطَاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' اس نوجوان کا حیرت انگیز واقعہ سن کر میں حیرت سے چیخ پڑا اور کہا: '' مخلوق کی محبت میں تیرا کیا حال ہوگیا ہے، اگر ایسی محبت خالقِ حقیقی جَلَّ جَلَالُہٗسے ہوتی تو کچھ اورہی رنگ ہوتا۔''حکایت نمبر488: انوکھی قناعت
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن شَبِیْب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب کا بیان ہے: '' ہر جمعہ کو ہمارا علم کا مَدَنی مذاکرہ ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے ہماری محفل میں کوئی مسئلہ پوچھا۔ہم اس بارے میں بحث کرتے رہے لیکن جواب نہ دے سکے ۔ا گلے جمعہ وہ پھرآیاتوہم نے جواب بتایا اور اس کی رہائش گاہ کے بارے میں پوچھا۔اس نے کہا:''میں''حَرْبِیَّہ''میں رہتا ہوں۔'' ہم نے کہا:'' تمہاری کُنْیَت کیا ہے ؟'' کہا: '' ابو عبداللہ۔'' ہمیں اس کے ساتھ بیٹھنے سے خوشی ہوتی ۔وہ ہر جمعہ ہماری محفلِ فقہ میں شرکت کرتا ،اس کاآنا ہمیں بہت اچھا لگتا۔ پھر اچانک اس نے آنا چھوڑ دیا،اس طرح اچانک غیرحاضری کی وجہ سے ہم پریشان ہوگئے۔ہم نے مشورہ کیاکہ ہمارا ایک رفیق ہم سے جدا ہوگیا ہے اس کے بارے میں ضرور معلومات کرنی چاہے، کیا معلوم اسے کوئی بڑی پریشانی لاحق ہوگئی ہو؟ اگلی صبح ہم ''حَرْبِیَّہ''گئے اور بچوں سے پوچھا :''کیا تم ''ابو عبد اللہ ''کو جانتے ہو ؟'' بچوں نے کہا:'' شاید! آپ ابو عبداللہ شکاری کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟'' ہم نے کہا:'' ہاں! ہم اسی کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔'' کہا:'' بس وہ آنے والے ہیں، آپ یہیں انتظار فرمائیں۔''
ہم وہیں ٹھہر گئے،کچھ دیر بعدہم نے دیکھا کہ ایک موٹے کپڑے کاتہبندباندھے ایک چادر کندھوں پراوڑھے وہ ہماری جانب چلا آ رہا تھا۔اس کے پاس کچھ ذبح کئے ہوئے اورکچھ زندہ پرندے تھے۔وہ مسکراتا ہوا ہمارے پاس آیا اورپوچھا:''خیرت تو ہے آج اس طرف کیسے آنا ہوا ؟ '' ہم نے کہا : '' تم ہمارے دوست تھے کئی دنوں تک مسلسل ہمارے پاس علمِ دین سیکھنے آتے