Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
381 - 412
ہیں۔''رومی قاصد کی یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے فرمایا:''دیکھو! جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملنے کی امید بھی نہیں رکھتاوہ موت کو کس طرح یاد کرتا ہے، اسے بھی موت کی کتنی فکر ہے؟'' اس واقعہ کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے اور اسی بیماری کی حالت میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر487:             کنیزکی محبت ميں ہاتھ جلا ڈالا
    حضرتِ سیِّدُنا ابوالعبَّاس بن عَطَاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: ایک حسین وجمیل نوجوان میرے حلقۂ درس میں آکر بیٹھا کرتا، اس کا ایک ہاتھ ہمیشہ کپڑے سے ڈھکا رہتا۔ ایک دن خوب بارش ہوئی او ر ہمارے حلقۂ درس میں اس نوجوان کے علاوہ کوئی نہ آیا۔ میں نے دل میں کہاکہ آج اس کے ہاتھ کے بارے میں ضرور پوچھوں گا۔ پہلے تو میں اپنے اس خیال کو دفع کرتا رہا، لیکن مجھ سے رہا نہ گیا بالآخر میں نے پوچھ ہی لیا:''اے نوجوان !تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا؟'' کہا :''میرا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے۔'' میں نے کہا:'' تم بیان کرو ۔'' کہا:'' میں فلاں بن فلاں ہوں، میرے والد نے انتقال کے بعد میرے لئے تیس (30) ہزار دینا ر چھوڑے تھے، میں ان سے کاروبار کرتا رہا۔ پھر میں ایک کنیز کی محبت میں گرفتار ہواور اسے چھ ہزار دینار میں خرید لیا۔جب اسے گھر لایاتو اس نے کہا: ''مجھے روئے زمین پر تجھ سے زیادہ ناپسند کوئی نہیں، تُو مجھے میرے سابقہ مالک کی طرف لوٹا دے، جب میں تجھ سے انتہائی بغض رکھتی ہوں تو اس حالت میں تو مجھ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔'' میں نے اسے سمجھانے کی خوب کوشش کی، ہر طرح کی راحت وعیش کا سامان اسے مہیا کیا، لیکن وہ میری طرف بالکل بھی متوجہ نہ ہوئی، میں جتنا اس سے پیار کرتا وہ اتنی ہی نفرت سے پیش آتی۔ اس کے اس رویّے سے میرا دل غمگین ہوگیا ، میں کسی بھی قیمت پر اسے دور نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں دن رات اس کے خیالوں میں گم رہنے لگا۔ میری یہ حالت دیکھ کر میری ایک عمر رسیدہ خادمہ نے کہا :''تو اس کے غم میں اپنی جان کیوں دیتا ہے؟ اس کنیز کو ایک کمرے میں بند کر دے، کچھ ہی دنوں میں اس کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے ۔''

    چنانچہ، کنیز کو ایک علیحدہ کمرے میں بھجوادیاگیا۔ اب اس کی یہ حالت تھی کہ نہ کچھ کھاتی، نہ پیتی بس ہر وقت روتی ہی رہتی، اس کا جسم نہایت کمزور ہوگیا، ایسا لگتا تھا کہ اب یہ انتقال کر جائے گی۔ میں روزانہ اس کے پاس جا کراسے خوش کرنے کی کوشش کرتا، لیکن وہ میری کسی بات کا جواب نہ دیتی۔ چار د ن بعدمیں نے کہا:'' اگر کوئی چیز کھانے کو جی چاہ رہا ہے تو بتاؤ۔''
Flag Counter