دربارمیں بلا کر شاہی مسندوں پربٹھایا،پھرمجھے اپنے پاس بلایااورکہا:'' اے وکیع !'' میں نے کہا :'' امیر المؤمنین !وکیع حاضر ہے۔ ''
خلیفہ نے کہا :'' تمہارے شہر والوں نے مجھ سے ایک قاضی طلب کیا ہے ، انہوں نے مجھے جن لوگوں کے نام دئیے ان میں تمہارا نام بھی ہے ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے اپنی امانت اور رعایا کی بھلائی کے کاموں میں معاون بنا لوں ۔ میں تجھے قاضی بناتا ہوں ، جاؤ! اور اپنا عہد ہ سنبھالو۔ '' میں نے کہا:'' اے امیر المؤمنین! میری ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوچکی ہے او ردوسری سے بہت کم دکھائی دیتا ہے اب میری عمر بھی کافی ہوگئی ہے، لہٰذا مجھے اس عہدے سے معافی دیں۔ '' امیر المؤمنین نے کہا : '' تم یہ عہدہ قبول کر لو۔'' میں نے کہا : '' اے امیر ا لمؤمنین! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر میں اپنے بیان میں سچا ہوں تو چاہے کہ میرا عذر قبول کیا جائے اور مجھے یہ عہدہ نہ دیا جائے۔ اگر جھوٹا ہوں تو جھوٹا شخص اس لائق نہیں کہ اسے قاضی بنایا جائے ۔'' خلیفہ نے جھنجھلا کر کہا :'' جاؤ! یہا ں سے چلے جاؤ ۔''میں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً چلا آیا۔
پھر عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ا پنے پاس بلایا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بہت دھیمی آواز میں خلیفہ کو سلام کیا۔ خلیفہ نے کہا :'' کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے تمہیں کیوں بلایا ؟'' فرمایا :'' نہیں ۔''خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدنے کہا:'' تمہارے شہر والوں نے مجھ سے ایک قاضی طلب کیا ہے اور جن لوگوں کے نام بھجوائے ہیں ان میں تمہارا نام بھی ہے ۔ میں تمہیں تمہارے شہر کا قاضی بناتا ہوں ،جاؤ !اور اپنا عہدہ سنبھالو۔''حضرت عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:'' میں اس عہدہ کے لائق نہیں۔'' خلیفہ نے غضبناک ہوکر کہا : ''چلے جاؤ!میں تمہاراچہرہ بھی نہیں دیکھناچاہتا ۔'' خلیفہ کی یہ بات سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی انتہائی جرأت مندی سے جواب دیا ، اے خلیفہ میر ی بھی یہ خواہش ہے کہ میں تمہاراچہرہ نہ دیکھو ں۔'' اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے چلے آئے ۔
پھر حفص بن غیاث کو بلایا گیا تو انہوں نے یہ عہدہ قبول کرلیا۔پھر ہم تینوں واپس اپنے شہر کی طرف چل دئیے ۔اتنے میں ایک خادم تین تھیلیاں لے کر آیا ہر تھیلی میں پانچ پانچ ہزار درہم تھے ۔ خادم نے تھیلیاں ہمیں دیتے ہو ئے کہا:'' امیر المؤمنین نے آپ تینوں کو سلام کہا ہے اور کہاہے کہ'' آپ کویہاں آنے تک سفر کی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں،یہ کچھ رقم لے لوتاکہ دورانِ سفر کام آسکے۔''
حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے تھیلی واپس کرتے ہوئے کہا:''میری طرف سے امیر المؤمنین کوسلام کہنااورکہناکہ آپ کا ہدیہ ہم تک پہنچ چکا ہے ، فی الحال مجھے ان درہموں کی ضرورت نہیں ۔ آپ کی رعایا میں جو محتاج ہو یہ رقم اسے دے دیجئے ۔''جب خادم نے درہموں کی تھیلی عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دی تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا:''یہاں سے چلے جاؤ ، مجھے یہ رقم نہیں چاہے ، پھر حفص بن غیاث کو تھیلی دی گئی تو انہوں نے قبول کرلی۔