Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
377 - 412
حکایت نمبر483:              رعایا کی خبرگیری کا انوکھا واقعہ
    حضرتِ سیِّدُنا اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں: ''میں ایک رات امیر المؤمنین ،خلیفۃالمسلمین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا۔ آبادی سے باہرآگ کی روشنی نظر آئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اے اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! شاید وہاں کوئی قافلہ ٹھہرا ہوا ہے، آؤ! وہاں چلتے ہیں، شاید! کسی کو کوئی حاجت ہو۔'' وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت نے آگ روشن کرکے دیگچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے اور اس کے قریب ہی چھوٹے چھوٹے بچے بلند آواز سے رورہے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:'' اے روشنی والو!(۱) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم'' عورت نے کہا:''خیر وسلامتی کے ساتھ آ جاؤ ۔'' امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریب جا کر پوچھا: ''تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ''عورت نے کہا:'' رات اور سردی کی وجہ سے ہم نے آگ روشن کر لی۔'' پوچھا:'' یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟''کہا:'' بھوک کی وجہ سے۔'' فرمایا: ''اس دیگچی میں کیا ہے ؟''عورت نے غمگین ہوکر کہا:'' ہمارے پاس کھانے کو کوئی چیز نہیں،مَیں نے دیگچی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دی ہے تاکہ اسے دیکھ کر بچوں کو کچھ سکون ملے اور وہ سو جائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اورامیر المؤمنین کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ہمارے خلیفہ حضرتِ عمر کو اللہ عَزَّوَجَلَّ پوچھے گا۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی !عمرکوکیا معلوم! تمہارا کیا حال ہے؟'' کہا: ''وہ ہمارا خلیفہ ہو کر بھی ہم سے بے خبرہے؟''

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تم یہیں ٹھہرنا، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں کچھ ہی دیر میں واپس آتا ہوں۔''چنانچہ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گودام میں آئے ،ایک بوری میں جَو کا آٹا، چربی اور گھی وغیرہ ڈال کر مجھ سے فرمایا: ''اے اسلم! یہ بوری میری پیٹھ پر رکھو۔'' میں نے کہا:'' حضور! غلام حاضر ہے، یہ بوری میں اٹھاؤں گا۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ''جو کہا جارہا ہے اس پر عمل کرو اور بوری میری پیٹھ پر لاد دو۔'' میں نے کہا:'' حضور !میں اُٹھا لیتا ہوں۔'' فرمایا: ''کیا قیامت کے دن بھی تو میرا وزن اٹھا کر چلے گا؟ جلدی کر یہ بوری میری پیٹھ پر رکھ دے ۔'' میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بوری آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر رکھ دی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے اور عورت کےـ پاس پہنچ کر بوری اُتارکر زمین پر رکھ دی۔ پھر جو کا آٹا، چربی اور دیگر اشیاء ہانڈی میں ڈال کر خود ہی اسے ہلاتے رہے اور خود ہی چولہے میں پھونک مارتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ امتِ مسلمہ کا عظیم خلیفہ، ایک غریب وبے سہار ا عورت اور اس کے بچوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔یہ جملہ آپ کی کمالِ فصاحت پردلالت کرتا ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کویَا اَصْحَابَ النَّاریعنی اے آگ والو!نہ کہابلکہ یَا اَصْحَابَ الضَّوء یعنی اے روشنی والو!کہا۔
Flag Counter