Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
378 - 412
اور دُھواں اس کی گَھنی داڑھی سے گزر رہا ہے۔ میں حیرت کی تصویر بنے یہ منظردیکھ رہا تھا۔ جب کھانا تیا ر ہوگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ سے برتن میں ڈالا اور اسے ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا :''زیادہ گرم کھانا بچوں کو نقصان دے گا۔'' جب کھانا ٹھنڈا ہو گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں تمہیں کھانا ٹھنڈا کر کے دیتا ہوں،اب تم اپنے ننھے منے بچوں کو کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ ۔'' امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھوں سے انہیں کھانا دیتے رہے یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے ۔ پھر عورت نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ! تُوامیرالمومنین سے زیادہ خلافت کا حق دار ہے '' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بند ی!امیر المؤمنین کے بارے میں اچھا کلام کر اور اچھا گمان رکھ۔تو جب بھی امیرالمؤمنین کے پاس آئے گی مجھے وہیں پائے گی میں ضرور تیر ی سفارش کروں گا۔'' عورت کومعلوم نہ تھا کہ امیرالمؤمنین اس کے سامنے موجود ہے ۔ اس نے پوچھا:'' اے نیک دل انسان !اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، تو کون ہے؟''وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دعائیں دیتی رہی اور پوچھتی رہی ، لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے متعلق کچھ نہ بتایا پھر کچھ دورجا کر چوپایوں کی طرح چار زانوں بیٹھ گئے اور ایسی آوازیں نکالنے لگے کہ بچے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھ کر خوش ہو گئے۔

    حضرتِ سیِّدُنا اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں کہ''میں نے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حالت دیکھی تو متعجب ہو کر کہا: ''اے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ !آپ کی شان اس سے بہت زیادہ بلند ہے، یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیسی حالت بنالی ہے؟'' فرمایا:''خاموش ہوجاؤ! میں نے ان ننھے مُنّے بچوں کو بھوک سے روتادیکھا تھا اب مجھے اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک انہیں ہنستا نہ دیکھ لوں۔'' بچے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب آکر کھیلنے اور ہنسنے لگے، ان کا دل خو ش ہو گیا ۔پھرجب وہ سوگئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا ۔ پھر فرمایا:'' اے اَسلم !بھوک نے ان بچوں کو رُلادیا تھا ،ان کو روتا دیکھ کر میں نے تہیّہ کرلیا تھا کہ میں اس وقت تک نہ جاؤں گا جب تک انہیں ہنستا نہ دیکھ لوں۔ اب میرے دل کو سکون مل گیا ۔آؤ! واپس چلیں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

؎ نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا		ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم(رضي اللہ عنہ)سا  

مراد آئی، مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی 		ملا حاجت روا ہم کو درِ سلطانِ عالم صلي اللہ عليہ وسلم سا

تیرے جودوکرم کا کوئی اندازہ کرے کیوں کر 		تیرا اِک اِک گدا فیض وسخاوت میں ہے حاتم سا

    (پیارے اسلامی بھائیو! اسلام اور اس کے ماننے والے سب سے اعلیٰ ہیں ،روئے زمین پر خیر خواہی کی ایسی عظیم مثال اسلام کے علاوہ اور کسی مذہب میں ہرگز نہ ملے گی۔ مسلمانوں کے علاوہ کائنات میں ایسا تاریخی واقعہ کہیں نہ ملے گا کہ بادشاہ ہو کر خود ہی اپنی کمر پر بوری لادے اور پھر ایک غریب عورت اور اس کے بچوں کی دل جوئی کے لئے اپنے آپ کو ان کے