| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
یَارَبِّ اِنْ عَظُمَتْ ذَنُوْبِیْ کَثْرَۃً فَلَقَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّ عَفْوَکَ اَعْظَمُ اِنْ کَانَ لَایَرْجُوْکَ اِلَّامُحْسِنٌ فَمَنِ الَّذِیْ یَدْعُوْوَیَرْجُو الْمُجْرِمُ اَدْعُوْکَ رَبِّ کَمَااَمَرْتَ تَضَرُّعًا فَاِذَا رَدَدتَّ یَدِیْ فَمَنْ ذَا یَرْحَمُ مَالِیْ اِلَیْکَ وَسِیْلَۃٌ اِلَّا الرِّجَا وَجَمِیْلُ عَفْوِکَ ثُمَّ اِنِّیْ مُسْلِمُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! بے شک میرے گناہ بے شمارہوگئے ،مگرمیں جانتاہوں کہ تیرا عفووکرم سب سے بڑھ کر ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اگرنیک لوگ ہی تجھ سے امید رکھ سکتے ہیں تو پھرمجرم کسے پکاریں ؟اور کس سے امیدرکھیں؟۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میں تیرے حکم کے مطابق گریہ وزاری کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں فریاد کرتاہوں اگرتُونے مجھے
خالی ہاتھ لوٹا دیاتو پھر کون رحم کر ے گا۔؟
(۴)۔۔۔۔۔۔تیری بارگاہ میں باریابی کے لئے میرے پاس امید اور تیرے عفووکرم کے سوا کوئی وسیلہ نہیں پھر یہ کہ میں تجھے ماننے والا ہوں ۔
(پیارے اسلامی بھائیو :اس حکایت میں ان شعراء کرام کے لئے مسرت کاسامان ہے جوقرآن وسنت کی روشنی میں اچھے اشعار(یعنی حمدالہٰی ،ثنائے مصطفی عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور نصیحت بھرے اشعار) لکھتے ہیں۔اوریقیناایسوں کے لکھے ہوئے اشعار پڑھنے اورسننے سے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ اورعشقِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی لازوال دولت ملتی ،حفاظتِ ایمان کے لئے کُڑھنے کا ذہن بنتااورنیک بننے کاجذبہ ملتاہے۔اس کی ایک مثال شیخ طریقت، امیرِاہلسنّت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔقادری دامت برکاتہم العالیہ کے لکھے ہوئے کلام بھی ہیں جودعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ''مغیلانِ مدینہ''اور''ارمغانِ مدینہ''کے نام سے ہدیۃً خریدے جاسکتے ہیں۔)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر223: نیک لوگوں کی نظرمیں عہدے کی حیثیت
حَمَّادبن مُؤَمَّل ابوجَعْفَرکَلْبِی کہتے ہیں کہ'' مجھے میرے شیخ نے بتایا:''ایک مرتبہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی سے پوچھا:'' حضور ! کچھ عرصہ قبل خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے آپ تینوں یعنی وکیع ، ابن ادریس اور حفص بن غیاث رحمہم اللہ تعالیٰ کو شاہی دربار میں کیوں بلوایا تھا ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''تم نے مجھ سے وہ سوال کیاہے جوتم سے پہلے کسی نے نہیں کیا،چلو میں تمہیں سارا واقعہ بتاتاہوں:''ہوایوں کہ امیرالمؤمنین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے ہم تینوں کو اپنے