کہا: ''مجھے یہ بیماری کافی عرصہ سے ہے، جسے میں نے تمام لوگوں سے چھپائے رکھاسوائے بَخْتَیَشُوْع، مسرور اور رَجَاء کے ۔ بہرحال بَخْتَیَشُوْع میرے بیٹے مامون کا مخبرہے، اس سے رازکا چھپنا ممکن نہیں۔ اسی طرح مسرورنے میری بیماری کی خبر میرے بیٹے امین کو دے دی ہے اوران میں سے کوئی ایسانہیں جس کامخبروجاسوس مجھ پرمتعین نہ ہو۔ میرے عزیزبیٹوں کی یہ حالت ہے کہ وہ میرے سانسوں کوشمارکررہے ہیں کہ دیکھو یہ کب انتقال کرتاہے۔ان لوگوں کی خواہش ہے کہ میری بیماری میں اضافہ ہو،مجھے اس بات کا اندازہ اس طرح ہواہے کہ جب بھی میں نے ان سے تواناوقوی ہیکل اورمضبوط عجمی گھوڑاطلب کیاتوانہوں نے مجھے ضعیف وناتواں گھوڑا دیاتاکہ بیماری مزید بڑ ھے ۔مجھے سب کچھ معلوم ہے لیکن میں اپنارازان کے سامنے ظاہرنہیں کرناچاہتاکیونکہ اس طرح وہ مجھ سے وحشت محسوس کر نے لگیں گے۔اورجب وحشت ہوگی توان کے سینوں میں چُھپی عداوت ظاہرہوجائے گی۔خاص لوگ ان کی طرف مائل ہوجائیں گے ا ورعام لوگ ان سے امید لگا لیں گے ۔اورمیں ان کے درمیان ایساہی ہوں گاجیسے کوئی شخص دشمنوں کے درمیان خوفزدہ ہوتا ہے۔ میری صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ مجھے شام تک زندہ رہنے کی امیدنہیں رہتی اورشام کو صبح کی اُمید نہیں ہوتی۔''
خلیفہ کی حسرت بھری پُر درد کیفیت وحقیقت جان کرمیں نے کہا:''حضور!ان کی اس حرکت کابہترین جواب دیاجا سکتا ہے لیکن میں تویہی کہتاہوں کہ جوشخص آپ کے ساتھ مکروفریب کریگااللہ تعالیٰ اسے اسی کے مکروفریب میں پھنسادے گا۔'' خلیفہ نے کہا: ''تیری یہ پکاراللہ عَزَّوَجَلَّ سن رہا ہے۔اب تُوواپس پلٹ جا،تیرے ذمہ بغداد میں اور بھی بہت سے کام ہیں ۔'' پس میں نے خلیفہ کوالوداع کہا اور واپس لوٹ آیا۔یہ واقعہ ان کی وفات کے قریب کاہے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)