Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
364 - 412
ہوئے سجدہ ریز ہوتا ہوں، بڑی امیدکے ساتھ تشہد پڑھتا ہوا اخلاص کے ساتھ سنت کے مطابق سلام پھیر دیتا ہوں ۔ اور میں یہ نمازاس حالت میں اداکرتاہوں کہ میراکھانا اورلباس بالکل حلال مال سے ہوتاہے ۔ میں خوف وامیدکے درمیان ہوتاہوں،میں نہیں جانتاکہ میری یہ نمازقبول کرلی جائے گی یا ردکردی جائے گی۔''

    یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا: ''اے حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! آپ کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہیں؟''فرمایا:''تقریباًتیس(30) سال سے ایسی ہی نمازپڑھ رہاہوں۔'' یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوگلے لگا لیااوراتناروئے کہ چادر مُبَارَک آ نسو ؤ ں سے بِھیگ گئی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر472:                د رد بھری حقیقت
    احمد بن صَبَّاح طَبَرِی کابیان ہے کہ مجھے میرے والدنے بتایا: ''خلیفہ ہارُون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدجب خُرَاسَان کی طرف جانے لگے تومیں انہیں الوداع کہنے گیا۔ خلیفہ نے مجھ سے کہا: ''اے صباح! میرا گمان ہے کہ اس کے بعدتم مجھے کبھی نہ دیکھ سکوگے ۔'' میں نے کہا:''اے امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کواپنی پناہ میں رکھے!یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں؟''بخدا!مجھے اُمیدہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوامتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خیرخواہی کے لئے لمبی عمرعطافرمائے گا۔''خلیفہ نے مسکراتے ہوئے کہا: ''اے صباح! بخدا!میں مرنے کے بہت قریب ہوں۔''میں نے کہا:''اے امیرالمؤمنین!اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے ، ابھی تو آپ کاجسم طاقتور ومضبوط اور چہرہ صحیح و سالم ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کوان بادشاہوں سے بھی لمبی عمرعطافرمائے جوزمانۂ درازتک دنیاپرحکومت کرگئے اورآپ کوایسی کامیابی وکامرانی عطا فرمائے جیسی حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرنَیْن علیہ رحمۃرَبِّ الکونین کوعطافرمائی تھی۔ اللہ کرے آپ کبھی اپنی رعایامیں کوئی بہت بڑی خرابی نہ دیکھیں۔''

    یہ سن کرخلیفہ نے اپنے پیچھے آنے والے امراء ووزراء کوایک طرف جانے کاحکم دیا،پھرراستے سے ہٹ کرایک در خت کے پاس آئے اور فرمایا:''آج میں ایک رازتجھ پرظاہرکرناچاہتاہوں،یہ رازتمہارے پاس امانت ہے، اسے چھپا ئے رکھنا۔''میں نے کہا: ''اے میرے سردار!آپ اپنے بھائی سے مخاطب ہیں، جوچاہیں ارشادفرمائیں۔''خلیفہ نے اپنے شِکَم (یعنی پیٹ) سے کپڑا ہٹایا تواس پر زخموں کے نشانات تھے، جن پرپٹی بندھی ہوئی تھی،پھر مجھے کہا: ''کیاتم جانتے ہوکہ مجھے یہ مرض کب سے ہے ؟''میں نے کہا: ''نہیں۔''
Flag Counter