| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
'' یہاں پرتمہارا انیس ورفیق کون ہے؟'' کہا:''حضور!آپ علیہ السلام خود ملاحظہ فرمالیں۔'' آپ علیہ السلام اس کے پاس گئے تودیکھاکہ وہ ایک کفن دیئے ہوئے مردے کے پاس موجود ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:''کیایہ تمہارا مونِس ہے ؟''کہا: ''ہاں!یہی میرا مونِس ومددگار ہے۔'' فرمایا: ''یہ کون ہے؟''کہا: '' اس کے سرہانے ایک تانبے کی تختی ہے جس پراس کے بارے میں تفصیل لکھی ہوئی ہے۔'' آپ علیہ السلام نے تختی اٹھا کردیکھی تواس پریہ عبارت درج تھی:
''میں فلاں بن فلاں بادشاہ ہوں،میں نے ہزارسال عمرپائی،ہزارشہرآبادکئے ،ایک ہزارلشکروں کوشکست دی، ہزا ر عورتوں سے شادی کی،میرے پاس ہزارکنواری لونڈیاں تھیں، میں اپنی سلطنت اور زندگی کی عیش وعشرت میں مشغول تھاکہ ملک الموت علیہ السلام تشریف لے آئے اورمجھے نعمتوں سے نکال کریہاں پہنچادیاگیا۔ اب خاک میرابستراورکیڑے مکو ڑے میرے پڑوسی ہيں۔''
یہ تختی پڑھ کر آپ علیہ السلام بے ہوش ہوکرزمین پرتشریف لے آ ئے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر471: حضرتِ حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی نماز
حضرتِ سیِّدُنااَزْہَربن عبداللہ بَلْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے:ایک مرتبہ جب حضرتِ سیِّدُناحاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم حضرتِ سیِّدُناعِصَام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے پوچھا:''اے حاتمِ اَصَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! کیا آپ اچھی طرح نماز پڑھتے ہیں؟''فرمایا: ''جی ہاں۔'' پوچھا: ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں نماز پڑھنا کس سے سیکھا؟'' فرمایا: ''حضرتِ سیِّدُناشَقِیْق بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ القدیم سے۔'' انہوں نے عرض کی : ''اپنی نماز کا انداز تو بتا دیجئے۔ '' فرمایا:''جب نماز کاوقت قریب آتاہے تونہایت عمدگی سے وضوکرتاہوں، پھر نماز پڑھنے کی جگہ پر پہنچ جاتاہوں اورمیرے جسم کا ہرعضو نماز کے لئے تیار ہو جاتا ہے ،پھرمیں خیال کرتا ہوں کہ'' کَعْبَۃُ اللہ شریف'' میرے بالکل سامنے ہے ، میں میدانِ محشرمیں خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہونے والاہوں۔میرے قدم پل صراط پرہیں۔جنت میری دا ئیں طرف اوردوزخ بائیں جانب ہے۔ ملک الموت علیہ السلام میرے پیچھے ہیں۔اورمیں گمان کرتاہوں کہ بس یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔پھر تکبیرکہہ کربڑے غور وفکر کے ساتھ قراء َت کرتا ہوں۔ نہایت تواضع سے رکوع کرتا اوربڑے خشوع و خضوع کے ساتھ گڑ گڑاتے