اس کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ' ' میں نے اسے سمجھانے کے لئے کہا: ''تم قبرکے اندھیرے میں کیا کرو گے ۔''
کہا:''اللہ ربُّ العِزَّت نیک لوگوں کی روحوں کوبرے لوگوں کی روحوں کے ساتھ نہ ملائے گا۔ میری بات سنو! آج رات میرے والداورتمہارے والدعبداللہ بن نُمَیْرمیرے خواب میں آئے اور کہا:'' اے نُمَیْر! جمعہ کے دن تم شہیدہوکرہمارے پاس پہنچ جاؤ گے۔''نُمَیْرکی یہ بات میں نے اپنی بہن کو بتا ئی تواس نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!بارہا میرا تجربہ ہے کہ اس کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوئی،یہ جوبات کہتاہے وہ ضرورہوکررہتی ہے۔'' یہ سن کرمیں خاموش ہوگیا۔وہ بدھ کادن تھااورہم متعجب وحیران ہوکرکہہ رہے تھے کہ کل جمعرات ہے اورپَرسوں جمعہ ہے با لفر ض یہ کل بیمارہوبھی گیا اورپرسوں مرگیاتو شہیدکیسے ہو گا؟ اسی شش وپنج (یعنی سوچ بچار)میں جمعہ کی رات آگئی۔ تقریباًآدھی رات کے وقت اچا نک ہم نے ایک دھماکے کی آوازسنی ،ہم دوڑکرگئے تودیکھاکہ نُمَیْرفرش پرمردہ حالت میں پڑا ہوا ہے۔ ہوایوں کہ جب وہ چھت پر جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھنے لگاتواس کاپاؤں پھسل گیااورگردن ٹوٹ گئی (اوراس طر ح اسے شہادت کی موت نصیب ہو گئی ) میں اسے اپنے والدکے پہلومیں دفنا کر والد صاحب کی قبرکے پاس آیااورکہا:''ابا جان!نُمَیْرآپ کے پاس آ گیاہے اوریہ آج سے آپ کا پڑوسی ہے ۔''
یہ کہہ کرمیں غمزدہ وافسردہ گھرآگیا۔رات کوخواب دیکھاکہ والدِ محترم گھرکے دروازے سے تشریف لائے اور فرمایا: ''اے میرے بیٹے !تم نے نُمَیْرکے ذریعے مجھے اُنس فراہم کیا۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی اچھی جزا عطا فر ما ئے ۔ سنو!جب تم نُمَیْرکوہمارے پاس چھوڑآئے تواس کانکاح'' حورِ عین'' سے کردیاگیا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)