| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
واقعی میرا چہر ہ سیاہ ہوچکا تھا ۔ میں سوچنے لگا کہ آخر ایسا کونسا گناہ سرزد ہوگیا جس کی نحوست سے مجھ پر یہ مصیبت آ پڑی؟۔ پھر خیال آیا کہ اس غیرعورت کو دیکھنے کی وجہ سے اس عذاب میں گرفتار ہوا ہوں ۔چنانچہ میں چالیس روز تک اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا رہا۔ پھر خیال آیا کہ مجھے اپنے مرشدِ کا مل حضرتِ سیِّدُناجنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہے۔ چنانچہ ،میں عروس البلاد ''بغداد شریف''کی جانب چل دیا۔ جب مرشدِ کامل کے آستانہ عالیہ پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو شیخِ کامل حضر تِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کی آواز سنائی دی :
''اے ابو عمر ! اندر آجاؤ تم نے ''رَحْبَہ ''میں گناہ کیا ،اور ہم یہاں بغداد میں تمہارے لئے استغفار کر رہے ہیں۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر222: اچھے اشعاربخشش کاذریعہ بن گئے
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن نافع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' ابونَوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق میرے قریبی دوست تھے ہم ایک ہی علاقے میں رہاکرتے تھے۔ پھر وہ دوسرے شہر چلے گئے اور آخری عمر تک ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ایک دن اطلاع ملی کہ ابو نوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس خبر نے مجھے بہت غمگین کیا، میں بہت زیادہ پر یشان تھا،اسی حال میں مجھے اونگھ آگئی ۔ میں نے ابونَوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کو دیکھاتو پکار کر کہا:''ابو نو اس ؟'' انہوں نے کہا:'' یہاں کُنیَّت نہیں۔'' میں نے کہا :''آپ حسن بن ہانی ہیں؟ ''کہا :''ہاں۔'' میں نے پوچھا:'' مَافَعَلَ اللہُ بِکَ؟'' (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟) کہا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے میرے ان چند اشعار کی وجہ سے بخش دیا جو میں نے اپنی موت سے کچھ دیر قبل کہے تھے ۔''
حضرت سیِّدُنا محمد بن نافع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''پھر میری آنکھ کھل گئی، میں فوراً ان کے گھر پہنچا۔ جب اہلِ خانہ نے مجھے دیکھا تو ان کا غم تازہ ہوگیا اوروہ بِلَک بِلَک کررونے لگے۔ میں نے انہیں تسلی دی اور پوچھا:'' کیا میرے بھائی ابو نواس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے انتقال سے قبل کچھ اشعار لکھے تھے ؟'' انہو ں نے کہا:''ہمیں نہیں معلوم، ہاں! اتنا ضرور ہے کہ موت سے قبل انہوں نے قلم، دوات اور ورق منگوائے تھے ۔ میں نے کہا :'' مجھے ان کی خوابگاہ (یعنی آرام کے کمرہ)میں جانے کی اجازت دو تاکہ ان اوراق کو ڈھونڈ سکوں۔'' گھر والوں نے مجھے ان کی خوابگاہ تک پہنچا یا ۔میں نے تکیہ ہٹاکر دیکھا تو وہاں کوئی چیز نہ ملی پھر دوبارہ تکیہ ہٹایا تو وہاں ایک پرچہ ملا جس پر یہ اشعار لکھے ہوئے تھے :