Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
359 - 412
ودولت نہیں جس کی وصیت کروں ، بس میں تو تم سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں ۔ سنو!جب میں مرجاؤں تومجھے میرے عابد بھائی کے پہلو میں دفناکرمیری قبرپریہ اشعارلکھ دینا:
؎ وَکَیْفَ یَلُذُّ الْعَیْشَ مَنْ کَانَ مُوْقِنًا		بِاَنَّ الْمَنَایَا بَغْتَۃً سَتُعَاجِلُہُ

فَتَسْلُبُہُ مُلْکًا عَظِیْمًا وَنَخْوَۃً			وَتُسْکِنُہُ الْبَیْتَ الَّذِیْ ہُوَ آہِلُہُ
    یہ اشعارلکھنے کے بعدمسلسل تین دن تک میری قبر پرآنااورمیرے لئے دعاکرناشایداللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پررحم فرمائے اورمجھے بخش دے۔''یہ کہہ کراس کاانتقال ہوگیا۔تاجرحسبِ وصیت مسلسل دودن تک آیا۔جب تیسرے دن آیاتواس کی قبر کے پاس بیٹھ کر دعا کرتا رہا اور مسلسل روتا رہا۔جب واپس جانے کاارادہ کیاتواس نے قبرمیں دیوارکے گرنے کی آوازسنی ۔آوازاتنی خطر ناک تھی کہ عقل ضائع ہونے کاخطرہ تھا۔وہ خوف زدہ اورغمگین ہوکرگھرآگیا۔جب سویاتوخواب میں اپنے بھائی کودیکھ کر پوچھا: ''اے میرے بھائی! آپ ہمارے گھرکیوں نہیں آتے؟''اس نے کہا:''ہم ایسے مقامات پرہیں کہ کہیں جانے کوجی نہیں چا ہتا۔''تاجرنے کہا:''بھائی آپ کا کیا حال ہے؟''کہا:''توبہ کی برکت سے ہرخیروبھلائی نصیب ہوئی ہے ۔''میں نے کہا:''میر ے عابدبھائی کا کیا حال ہے؟'' کہا: ''وہ ابراروں (یعنی نیک لوگوں)کے ساتھ ہے۔''پوچھا:''آپ کی طرف سے ہمیں کیانصیحت وحکم ہے؟'' کہا: ''جوکوئی دنیامیں رہ کر آخرت کے لئے کچھ بھیجے گااسے وہاں ضرورپائے گا۔پس تُواپنے لئے آخرت کاذخیرہ اکٹھا کر اور موت سے پہلے کچھ اعمالِ صالحہ جمع کر لے۔''

     تاجرنے صبح ہوتے ہی دنیاکوخیربادکہہ کرتمام مال تقسیم کردیااوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے کمر بستہ ہوگیا۔اس کاایک بیٹا تھا جو انتہائی حسین وجمیل اورسمجھ دارتھا۔اب اس نے تجارت شروع کر دی اورخوب مال دارہوگیا۔جب اس کے باپ کی وفات کا وقت قریب آیاتواس نے اپنے باپ سے کہا: ''اباجان! کیاوجہ ہے کہ آپ مجھے کوئی وصیت نہیں کررہے ؟ ' ' ا س نے کہا:''میرے بیٹے! خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!تیرے باپ کے پاس مال نہیں ہے جس کے متعلق تجھے وصیت کرے۔ہاں! میں تجھ سے ایک عہد لیتاہوں کہ جب میں مرجاؤں تومجھے اپنے دونوں چچاؤں کے ساتھ دفنانااورمیری قبرپریہ اشعارلکھ دینا:
؎ وَکَیْفَ یَلُذُّ الْعَیْشَ مَنْ کَانَ صَائِرًا		اِلٰی جَدَثٍ تُبْلِی الشَّبَابَ مَنَاہلُہُ

وَیَذْہَبُ رَسْمُ الْوَجْہِ مِنْ بَعْدِ صَوْ تِہٖ		سَرِیْعًا وَّیُبْلِیْ جسْمَہُ وَمُفَاصِلَہُ
    اورجب توتدفین سے فارغ ہوجائے توکم ازکم تین دن تک میری قبرپرآنااورمیرے لئے دعاکرنا۔ '' بیٹے نے حسبِ وصیت باپ کودونوں چچاؤں کے ساتھ دفن کیااورروزانہ زیارت کے لئے آنے لگا۔ تیسرے دن قبر سے ایک خطرناک آوازسنی توخوف زدہ وغمگین ہوکر گھر لو ٹ آیا۔ جب سویاتوخواب میں اس کا والدکہہ رہاتھا:''اے میرے بیٹے!تم ہمارے پاس بہت کم وقت
Flag Counter