Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
360 - 412
کے لئے آئے۔ سنو! موت بہت قریب ہے اورآخرت کاسفربہت کٹھن ہے ،جلدی سے سفرِ آخرت کی تیاری کر لو اورزادِراہ تیارکر لو۔بس آخرت کی منزل کی طرف تمہارا کوچ ہونے والاہے ۔جلدہی تُم اس فانی دنیاکوچھوڑنے والے ہو،اس دھوکے بازدنیاسے اس طرح دھوکہ نہ کھانا جیسے تجھ سے پہلے لوگ بڑی بڑی اُمیدیں دل میں لئے یہاں سے چل بسے۔انہوں نے حشرکے معاملے کومعمولی جانا تو موت کے وقت شدید نادم ہوئے اورگزری ہوئی زندگی پرانہیں بہت افسوس ہوا۔جب موت منہ کو آ جا ئے تواس وقت کی ندامت کوئی فائدہ نہیں دیتی اوراس وقت کاافسوس قیامت کے نقصان سے ہرگزنہ بچائے گا۔اے میر ے بیٹے!جلدی کر،جلدی کر، جلدی کر! (موت کی تیاری کرلے)۔

    راوی کہتے ہیں:''جوبوڑھا مجھے یہ واقعہ بیان کررہاتھااس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا:اس نوجوان نے ہمیں اپنا خواب سنایااور کہا:''معاملہ بالکل ویساہی ہے جیسامیرے والدنے بیان کیا،میراغالب گمان ہے کہ موت نے مجھ پر اپنے پَر پھیلانا شروع کردیئے ہیں ۔ ' ' پھر اس نے اپناقرض اداکیا، کاروباری شریکوں سے معاملہ صا ف کیا،اپنے دوستوں اوراہلِ قرابت سے معافی مانگی، انہیں سلامتی کی دعادی ،ان سے اپنی سلامتی کی دعاکاوعدہ لیا،پھرسب کویوں''اَلْوَدَاع'' کہنے لگاجیسے کسی بہت بڑے حادثے سے دوچار ہونے والا ہو۔پھرکہا:''میرے و ا لدنے مجھ سے تین مرتبہ کہاتھا:''جلدی کر،جلدی کر،جلدی کر۔'' اگر اس سے مرادتین گھنٹے تھے تو وہ گزرگئے، اگرتین دن مرادہیں تومیں تین دن بعد ہرگزتمہارے پاس نہ رہ سکوں گا،اگر تین مہینے مرادہیں تو وہ بہت جلد گزر جائیں گے، اگر تین سال مراد ہیں تواگرچہ یہ ایک بڑی مدت لگتی ہے لیکن یہ بھی جلدگزرجائے گی ، خواہ مجھے پسندہویانہ ہو موت بالآخر ضرور آکر رہے گی۔وہ نو جو ا ن یہ کہتاجاتااوراپنامال و دولت تقسیم کرتاجاتا۔ جب تین دن مکمل ہوئے تو اس نے اپنے اہلِ خانہ کو اور انہوں نے اسے الوداع کہا۔پھر قبلہ رُخ لیٹ کر آنکھیں بندکیں،کلمۂ شہادت پڑ ھااور اس کی روح دارِ فانی سے دارِ عقبیٰ کی طرف پروازکرگئی۔ اس کی موت کی خبرسن کرکچھ ہی دیرمیں مختلف علاقوں سے لوگ جمع ہوگئے۔اورآج تک لو گو ں کایہ معمول ہے کہ وہ مختلف شہروں اورعلاقوں سے آآکراس کی قبرکی زیارت کرتے اوراسے سلام کرتے ہیں۔ ''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)