Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
358 - 412
نے کہا:''خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرے پاس نہ تو مال ہے ،نہ ہی میراکسی پرقرض ہے، نہ ہی کوئی دنیوی مال چھوڑ کر جا رہاہوں جس کے ضائع ہونے کامجھے اندیشہ ہو، اب تم ہی بتاؤکہ میں کس چیزکی وصیت کروں؟''

    یہ سن کر اس کے حاکم بھائی نے کہا:''اے میرے بھائی !میرا مال آپ کے سامنے موجودہے ،آپ جوبھی حکم فرمائیں گے میں اسے پو راکروں گا۔'' پھر اس کے تاجربھائی نے کہا:''اے میرے بھائی !آپ میری تجارت اورمالِ تجارت سے خوب واقف ہیں، میرے پاس مال کی فراوانی ہے ،اگرکوئی ایساعمل رہ گیاہوجوصرف مال ودولت خرچ کرکے ہی پوراکیاجاسکتاہے اور آپ وہ نیک عمل نہیں پاتے تو میرا تمام مال آپ کی خدمت میں حاضرہے، آپ جوحکم فرمائیں گے میں پورا کر و ں گا۔''

     عابد نے کہا:''اے میرے بھائیو!مجھے تمہارے مال کی کوئی ضرورت نہیں ۔ہا ں! میں تم سے ایک عہد لیناچاہتاہوں، اگر ہو سکے تواسے پوراکر دینا، اس میں کوتاہی نہ کرنا۔''دونوں نے کہا: '' آ پ جوچاہیں عہدلیں ہم آپ کی ہرخواہش پوری کریں گے۔'' عابد نے کہا:''جب میں مرجاؤں توغسل وکفن کے بعدمجھے کسی او نچی جگہ دفنانا اور میری قبرپریہ اشعارلکھ دینا:
؎ وَکَیْفَ یَلُذُّ الْعَیْشَ مَنْ ہُوَعَالِمٌ		بِاَنَّ اِلٰہَ الْخَلْقِ لَا بُدَّ سَائِلُہُ

فَیَاْخُذُ مِنْہُ ظُلْمَہُ وَیَجْزِیْہِ			بِالْخَیْرِ الَّذِیْ ہُوَ فَاعِلُہُ
    یہ اشعارلکھ کرتم دونوں میری قبرکی زیارت کے لئے روزانہ آتے رہنا،شاید! تمہیں نصیحت حاصل ہو۔''جب عابد کا انتقال ہوگیا توحسبِ وصیت اس کی قبرپرمندرجہ بالااشعارلکھ دیئے گئے۔اس کاحاکم بھائی اپنے لشکرکے ساتھ دودن تک اس کی قبر پر آیا اور اشعار پڑھ کرروتارہا۔ تیسرے دن بھی کافی دیرتک روتارہا،جب واپس جانے لگاتواس نے قبرکے اندرسے ایک خوفناک دھماکے کی آواز سنی، قریب تھاکہ اس کادل پھٹ جاتا۔خوف کے مارے وہ سرپرپاؤں رکھ کر بھاگا اور گھر پہنچ کردَم لیا۔وہ بہت زیادہ غمگین وخوف زدہ تھا۔رات کوخواب میں اپنے بھائی کودیکھ کرپوچھا:''اے میرے بھا ئی !تمہاری قبرسے جو آوازمیں نے سنی وہ کس چیزکی تھی''؟کہا:''یہ جہنمی ہتھوڑے کی آوازتھی جومیری قبرمیں ماراگیااورمجھ سے کہاگیا: ''تونے ایک مظلوم کو دیکھا اور باوجودِ قدرت اس کی مددنہ کی،یہ اس کی سزاہے۔''یہ خواب دیکھ کراس نے وہ رات بڑی بے چینی میں گزاری۔ صبح اپنے تاجر بھائی اوردوسرے عزیزوں کو بلا کر کہا: ''اے میرے بھائی!ہمارے عابدبھائی نے اپنی قبر پر عبرت آموزاشعار لکھواکرہمیں بہت اچھی نصیحت کی، میں تم سب کوگواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اب میں تمہارے درمیان نہیں رہوں گا۔ '' پھر اس نے اَمارت وحکومت چھوڑی اور پہاڑوں اورجنگلوں میں جاکرعبادت وریاضت میں مشغول ہوگیا۔جب خلیفہ عبدالمَلِک بن مَرْوَان کو اطلاع ملی تو اس نے کہا: ''اسے اس کی حالت پرچھوڑدو۔'' جب اس کی موت کاوقت قریب آیا تو چندچرواہوں کے ذریعے اس نے اپنے تاجر بھائی کو بلوا بھیجا۔ اس نے آکر کہا: ''اے میرے بھائی !آپ مجھے کوئی وصیت کیوں نہیں کرتے۔''اس نے کہا:''میرے پاس مال
Flag Counter