؎ وَکَیْفَ یَلُذُّ الْعَیْشَ مَنْ کَانَ مُوْقِنًا بِاَنَّ الْمَنَایَا بَغْتَۃً سَتُعَاجِلُہُ
فَتَسْلُبُہُ مُلْکًا عَظِیْمًا وَنَخْوَۃً وَتُسْکِنُہُ الْبَیْتَ الَّذِیْ ہُوَ آہِلُہُ
ترجمہ:وہ شخص زندگی کامزاکیسے پاسکتاہے جسے پختہ یقین ہوکہ موت اس کو جلدہی آدبوچے گی، اس کی سلطنت وتکبرچھین لے گی اوراس کو اندھیری کوٹھڑی میں ڈال دے گی۔
تیسری پریہ اشعاردرج تھے:
؎ وَکَیْفَ یَلُذُّ الْعَیْشَ مَنْ کَانَ صَائِرًا اِلٰی جَدَثٍ تُبْلِی الشَّبَابَ مَنَاہلُہُ
وَیَذْہَبُ رَسْمُ الْوَجْہِ مِنْ بَعْدِ صَوْ تِہٖ سَرِیْعًا وَّیُبْلِیْ جسْمَہُ وَمُفَاصِلَہُ
ترجمہ:وہ شخص زندگی کامزاکیسے پاسکتاہے جوایسی قبرکامکین بننے والاہوجواس کے حسن وشباب کوخاک میں ملادے گی،اس کے چہرے کی چمک دمک ختم کردے گی اوراس کاجوڑجوڑعلیحدہ کردے گی ۔
یہ قبریں دیکھ کرمیں بستی کی طرف آیاتو ایک ضعیف ُ العمر شخص سے ملاقات ہوئی۔میں نے اسے کہا:''مَیں نے تمہاری بستی میں ایک عجیب بات د یکھی ہے۔''اس نے پوچھا:''کون سی بات؟''میں نے اسے قبروں کامعاملہ بتایاتواس نے کہا:''ان کاواقعہ انتہائی عجیب وغریب ہے۔''میں نے کہا:''اگرواقعی ایسی بات ہے تومجھے بتاؤ کہ یہ تین قبریں کن کی ہیں اوران پریہ اشعارلکھنے کی کیا وجہ ہے؟''یہ سن کر بوڑھے نے کہا: ''اس علاقے میں تین بھائی رہتے تھے، ایک بھا ئی کوبادشاہ نے شہروں اور فوجی لشکروں پر امیر مقرر کر رکھاتھا اوروہ بڑاظالم وسفّاک تھا۔دوسرا نیک دل تاجرتھا، جب بھی کوئی پریشان حال غریب اس سے مدد طلب کرتا تووہ اس کی مددکرتا۔جبکہ تیسرابھائی عابدوزاہدتھااس نے دنیوی مشاغل چھوڑ کرعبادت وریاضت اختیارکرلی تھی۔ جب عابد کی وفات کاوقت قریب آیاتودونوں بھائیوں نے کہا:''پیارے بھائی !آپ ہمیں کوئی وصیت کیوں نہیں کرتے؟'' عابد