Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
354 - 412
 سُبْحَانَ الْقَدِیْمِ الَّذِیْ لَا نِدَّ لَہٗ۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ ہُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِیْ شَاْنٍ۔سُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ مَا یُرٰی وَمَا لَا یُرٰی۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ عَلَّمَ کُلَّ شَیْءٍ مِنْ غَیْرِ تَعْلِیْمٍ
یعنی پاک ہے وہ اکیلاجس کے سواکوئی معبودنہیں ۔پاک ہے وہ ہمیشہ رہنے والا جسے کبھی فنا نہیں۔ پاک ہے وہ قدیم ذات جس کاکوئی ہمسَر نہیں۔پاک ہے وہ جومارتااور زندہ کرتاہے۔پاک ہے وہ جسے ہرد ن ایک کام ہے۔ پاک ہے وہ جس نے نظر آنے والی اورنہ نظر آنے والی اشیاء کوپیدافرمایا۔پاک ہے وہ جس نے ہرشے کوبغیرتعلیم کے سکھایا۔''

    پھر اس بزرگ نے فرمایا: ان کلمات کوپڑھ کراس طرح دعاکر:''اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ !میں تجھ سے ان کلمات کے وسیلے اور ان کی حرمت کے ساتھ سوال کرتاہوں کہ میرافلاں فلاں کام بنادے۔''اس طرح تم جوبھی دعامانگو گے قبول ہوگی۔''یہ کہہ کربزرگ نے کئی مرتبہ یہ کلمات دہرائے، یہاں تک کہ اس شخص کویاد ہوگئے ۔پھراچانک وہ بزرگ غائب ہوگیا۔یہ شخص ان کلمات کو سیکھ کر اپنے آپ کوپُرامن وپُرسکون محسوس کرتے ہوئے فوراًخلیفہ عبدالمَلِک بن مَرْوَان کے پاس پہنچا،کسی نے اس کو روکا اور نہ ہی خلیفہ کو اس پرغصّہ آیا ۔خلیفہ نے جب اپنی یہ کیفیت دیکھی توکہا:''کیاتُونے مجھ پرجادوکروا دیاہے؟''اس نے کہا: ''نہیں عالی جاہ! میں نے کوئی جادووغیرہ نہیں کروایا۔''خلیفہ نے کہا:''پھرکیاوجہ ہے کہ مجھے تجھ پربالکل غصّہ نہیں آرہا؟''

    اس نے بزرگ والی ساری بات بتائی اوروہ کلمات بھی سنادیئے۔خلیفہ بڑاحیران ہوا اوراسے معاف کرکے اپنے خاص عہدے داروں میں شامل کرلیا۔
حکایت نمبر465:         حکیم کا کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا
    حضرتِ سیِّدُناعبدالصَّمَدبن مَعْقِل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں،میں نے حضرتِ سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے سنا: ''بنی اسرائیل کاایک راہب اپنے عبادت خانے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیاکرتاتھا۔عبادت خانے کے نیچے ایک نہرتھی جہاں ایک دھوبی کپڑے دھویاکرتاتھا۔ایک دن ایک گُھڑسوارنے نہرکے قریب گھوڑا روکا، کپڑے اوررقم کی تھیلی ایک جانب رکھی اور غسل کرنے کے لئے نہر میں اُترگیا۔غسل کرنے کے بعد باہرآکرکپڑے پہنے اور رقم کی تھیلی وہیں بھول کر آگے بڑھ گیا۔ راہب سارامعاملہ دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک شکاری ہاتھ میں جال لئے نہرکے قریب آیا،اس نے رقم کی تھیلی دیکھی تو اٹھاکرچلتا بنا۔ کچھ دیربعد گُھڑ سوارواپس آیا اورتھیلی ڈھونڈنے لگا لیکن اسے تھیلی نہ ملی۔ اس نے دھوبی سے کہا: ''میں یہاں اپنی رقم کی تھیلی بھول گیاتھا، بتاؤ !وہ کہاں گئی؟'' دھوبی نے کہا:''مجھے نہیں معلوم، میں نے کوئی تھیلی نہیں دیکھی ۔''یہ سن کرگھڑ سوار نے تلوارنکالی اور دھوبی کاسرقلم کردیا ۔ راہب سارا منظر دیکھ رہاتھا،اسے وسوسے آنے لگے توعرض گزار ہوا:
Flag Counter