Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
353 - 412
حکایت نمبر463:             پرندے کے ذریعے رزق
    حضرتِ سیِّدُنامِسْعَررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ''ایک عابد پہاڑ پر رہ کر عبادت کیاکرتاتھا۔اسے رزق اس طرح ملتا کہ ایک سفیدپرندہ روزانہ اسے دوروٹیاں دے جاتا۔عابدروٹیاں کھاکراللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکراداکرتااوردن رات عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول رہتا ۔ ایک مرتبہ جب اسے دو روٹیاں دی گئیں تو ایک سائل آگیا اس نے ایک روٹی اسے دے دی، پھرایک اورسائل آیا تو آدھی روٹی اسے دے دی اورآدھی اپنے لئے رکھ لی،پھر اپنے آپ سے کہا:''بخدا! آدھی روٹی نہ تومجھے کفایت کرے گی اور نہ ہی سائل کاگزارہ ہوگا،بہتریہی ہے کہ ایک بھوکا رہے تاکہ دوسرے کاگزارہ ہوجائے۔ پس ا س نے سائل کوترجیح دیتے ہوئے روٹی اسے دے دی، سائل دعائیں دیتاہواچلاگیا۔ عابد نے وہ رات بھوک میں کاٹی۔ پھرخواب دیکھا،کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا: ''جومانگناہے مانگ لو۔ ''عابدنے کہا:''میں تومغفرت کا طالب ہوں۔'' آوازآئی :''یہ چیز تو تمہیں دی جاچکی ہے اس کے علاوہ کچھ چاہے تو بتاؤ۔''ان دنوں لوگ قحط سالی میں مبتلاتھے اوربارش بالکل نہ ہوئی تھی ۔ عابد نے کہا:''میں چاہتاہوں کہ لوگ بارش سے سیراب ہو جائیں۔'' عابدکی دعاقبول ہوئی اورموسلاد ھا ر بارش ہونے لگی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر464:             سات بابرکت کلمات
    حضرت سیِّدُنارَجَاء بن سُفْیَان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: خلیفہ عبدالمَلِک بن مَرْوَان نے ایک شخص کے بار ے میں اعلان کروا رکھاتھاکہ کوئی بھی اسے پناہ نہ دے،سب اس سے دُور رہيں۔سب لوگ اس سے دور بھا گتے ،وہ بےچارہ دَر بدَر ٹھوکریں کھاتا پھرتا اور جنگل وصحرا میں رہ کراپنا وقت پورا کرتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہاتھاکہ کچھ دُور ایک بزرگ چادراوڑھے نماز پڑھتے دکھائی دیئے،وہ قریب جاکربیٹھ گیا۔ بزرگ نے نمازمکمل کرنے کے بعدپوچھا:''تم کون ہو؟اوراتنے پریشان کیوں ہو؟'' اس نے کہا : ''میں دنیا کا دُھتکارا ہوا شخص ہوں ۔خلیفۂ وقت عبدالمَلِک بن مَرْوَان نے میرے بارے میں لوگوں کو دھمکی دی ہوئی ہے کہ کوئی مجھے پناہ نہ دے ۔ خلیفہ کومجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنابھی گوارانہیں کرتا۔لوگ بھی مجھے منہ نہیں لگاتے، بس ایسے ہی ویرانوں میں مارا مارا پھرتا ہوں۔'' یہ سن کر بزرگ نے کہا: ''تم سات کلمات سے غافل کیوں ہو؟'' عرض کی :''کون سے سات کلمات؟'' فرمایا:''وہ سات کلما ت یہ ہیں:
 ''سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الَّذِیْ لَیْسَ غَیْرَہُ اِ لٰہ ٌ۔ سُبْحَانَ الدَّائِمِ الَّذِیْ لَا نَفَادَ لَہٗ۔
Flag Counter