Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
355 - 412
    ''یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ !اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ !بڑا عجیب معاملہ ہے کہ تھیلی توشکاری لے جائے اوردھوبی ماراجائے۔'' راہب کواس طرح کے خیالات آتے رہے۔جب سویاتوخواب میں کہاگیا:''اے نیک بندے! وسوسوں کا شکار ہو کرپریشان نہ ہو، اور اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں دخل اندازی مت کر،بے شک تیرارب عَزَّوَجَلَّ جوچاہتاہے کرتاہے اورجیسے چاہتاہے حکم فرماتا ہے۔ سن! اس گھڑسوارنے شکاری کے باپ کوقتل کرکے اس کامال لے لیاتھااوردھوبی کانامۂ اعمال نیکیوں سے پُرتھاصرف اس کی ایک خطاتھی جبکہ اس گھڑ سوار کے نامۂ اعمال میں ایک ہی نیکی تھی ۔جب اس نے بے گناہ دھوبی کوقتل کیاتواس کی وہ نیکی مٹا دی گئی اوردھوبی کے نامۂ اعمال میں موجودخطابھی مٹادی گئی۔ رہامال تووہ اسی کے پاس پہنچ گیاجسے میراث میں ملناتھا۔''
    ''سُبْحَانَ الَّذِیْ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ وَیَفْعَلُ مَا یَشَآءُ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ، کُفُوًا اَحَدٌ
یعنی وہ پاک ہے، جوچاہتاہے حکم فرماتاہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اور نہ ہی اس کے جوڑکاکوئی۔''
حکایت نمبر466:         مُردوں کو زندوں کے نیک اعمال کا فائدہ
    حضرتِ سیِّدُناعثمان بن سَوْدَہ طُفَاوِی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی والدۂ محترمہ بہت زیادہ عابدہ وزاہدہ تھیں،کثرتِ مجاہدات کی وجہ سے ''راہبہ''مشہورتھیں۔جب موت کاوقت قریب آیاتوبارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزارہوئیں:

    ''اے میرے اعمال کے مالک عَزَّوَجَلَّ! اے میری اُمیدگاہ !اے وہ ذات جس پرقبل ازموت وبعداَزموت میرا اعتماد وبھروسہ ہے! اے میرے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ ! موت کے وقت مجھے رُسوانہ کرنا، قبرمیں مجھے بے یارومددگارنہ چھوڑنا۔''انہی الفاظ پر اس کاانتقال ہوگیا۔ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُناعثمان بن سَوْدَہ طُفَاوِی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:'' اپنی والدہ کے وصال کے بعد میں ہرجمعہ اُن کی قبرپرجاتا،ان کے لئے اورتمام اہلِ قبورکے لئے دعائے مغفرت کرتا۔ایک مرتبہ خواب میں والدہ کو دیکھاتوعرض کی: ''اے میری پیاری امی جان!آپ کاکیاحال ہے؟''کہا:''میرے بچے!بے شک موت بڑی دردناک ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے میراانجام اچھاہوا،میرے لئے خوشبوئیں،باغات اوربہترین نرم وملائم بسترہیں جن پر سُنْدُس اوراِسْتَبرَق(۱) کے تکیے ہیں،ان میں روزِ محشرتک انہی آرام دہ نعمتوں میں رہوں گی۔''میں نے کہا:''پیاری امی جان! کیا آپ کو کوئی حاجت ہے؟'' کہا: ''جی ہاں۔ '' میں نے پوچھا:''بتائیے کیاحاجت ہے؟''کہا:''میری قبر پر حاضری اورہمارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔یہ دونوں لفظ ریشمی لباس کے لئے بولے جاتے ہیں۔ سندس باریک ریشمی کپڑے کو اور استبرق موٹے ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔
Flag Counter