Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
34 - 412
والے کمرے میں سلادیا ۔ رات کے آخری پہر دروازے پر کسی نے دستک دی، میں نے کہا:'' کون ہے؟۔'' اس نے اپنا نام بتا کر کہا: ''میں فلاں لڑکی ہوں۔''میں نے کہا :'' وہ تو چلنے پھرنے سے بالکل عاجز ہے ، گویا وہ تو گوشت کے ٹکڑے کی طر ح ہے اور ہر وقت اپنے کمرے ہی میں رہتی ہے تم وہ کیسے ہوسکتی ہو ؟'' اس نے کہا:'' میں وہی ہوں تم دروازہ تو کھولو۔'' ہم نے دروازہ کھولا تو واقعی ہمارے سامنے وہی لڑکی موجود تھی۔ میں نے کہا:'' تم ٹھیک کیسے ہوگئی ہو؟ ۔'' کہا:''میں نے تمہاری آوازیں سنیں تھیں کہ آج ہمارے ہاں ایک نیک مہمان آیا ہے ، میرے دل میں خیال آیا کہ اس نیک مہمان کے وسیلے سے دعا کروں شاید اسی کے صدقے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے شفاء عطا فرمادے۔''

    لہٰذامیں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح دعا کی:'' اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! اس مہمان کے صدقے بیماری کو زائل کردے اور مجھے تندرستی عطا فرما۔''یہ دعا کرتے ہی میں فورا ٹھیک ہوگئی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے میرے ہاتھ پاؤں میں حرکت شرو ع ہوگئی ، دیکھو میں تمہارے سامنے صحیح وسالم موجود ہوں ۔ میں خود چل کر یہاں آئی ہوں ۔'' لڑکی کی یہ بات سن کر میں فوراً اس کمرے کی طرف گیا جس میں وہ نوعمر مزدور لڑکا تھا۔ دیکھا توکمرہ بالکل خالی تھا اس میں کوئی بھی نہیں ۔ میں باہردروازے کی طرف گیا تو وہ بھی بند تھا ، نجانے ہمارا نوعمر مہمان کہا ں غائب ہوگیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : ''حضرتِ سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے یہ واقعہ سن کر مجھ سے فرمایا : '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اولیاء میں کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں اور بڑی عمروالے بھی وہ لڑکا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ولی تھا۔ '' 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر221:            مرشِدپرمریدکاحال پوشیدہ نہیں ہوتا
    حضرتِ سیِّدُنا ابو عمر و بن عَلْوَان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں :''ایک مرتبہ میں کسی کام سے ''رَحْبَہ'' کے بازار میں گیا ۔ دیکھا کہ کچھ لوگ جنازہ اٹھائے جارہے ہیں ۔ میں نماز جنازہ کے ارادے سے ان کے ساتھ ہولیا ۔ تدفین کے بعدجب واپس ہوا توبِلاارادہ ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑگئی اور میں اسے دیکھنے لگاپھر نادِم ہوکر'' اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن'' کہتے ہوئے نگاہ پھیر لی ۔اور اللہ رب ا لعزت جَلَّ جَلَالُہٗ سے اپنے اس فعل کی معافی چاہتے ہوئے گھر چلا آیا ۔

     گھر پہنچا توبوڑھی خادمہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا :'' یہ آپ کا چہرہ سیاہ کیوں ہوگیا؟'' میں نے گھبراکر آئینہ دیکھا تو
Flag Counter