| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
وہاں عمدہ بستر بچھائے جاتے، انواع واقسام کے کھانے چُنے جاتے۔ بادشاہ لوگوں کو بلاتاتووہ عظیم ُ الشان محل اور بادشاہ کی ٹھاٹ باٹ(یعنی شان وشوکت) دیکھ کر تعریف وخوشامد کرتے ہوئے واپس چلے جاتے ۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا، بادشاہ مکمل طور پر دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو چکا تھااس کے اس عظیم الشان محل میں ہر طرح کے آلاتِ موسیقی اور لہوو لعب کا سامان تھا۔وہ ہروقت دنیوی مشاغل میں مگن رہتا۔ ایک دن اس نے اپنے خاص وزیروں ،مشیروں اور عزیزوں کو بلاکر کہا: ''تم اس عظیم الشان محل میں میری خوشیوں کو دیکھ رہے ہو، دیکھو! میں یہاں کتنا پُر سکون ہوں،میں چاہتا ہوں کہ اپنے تمام بیٹوں کے لئے بھی ایسے ہی عظیم الشان محلات بنواؤں، تم لوگ چند دن میرے پاس رُکو، خوب عیش کرو اور مزید محلات بنانے کے سلسلے میں مجھے مفید مشورے دو، تاکہ میں اپنے بیٹوں کے لئے بہترین محلات بنانے میں کامیاب ہوجاؤں ۔''
چنانچہ، وہ لوگ اس کے پاس رہنے لگے۔ دن رات لہو ولعب میں مشغول رہتے اور بادشاہ کو مشورہ دیتے کہ اس طرح محل بنواؤ، فلاں چیز اس کی آرائش کے لئے منگواؤ، فلاں معمار سے بنواؤ، الغرض روزانہ اسی طرح مشورے ہوتے اور عظیم ُالشان محلات بنانے کی ترکیبیں سوچی جاتیں۔ ایک رات وہ تمام لوگ لہوولعب میں مشغول تھے کہ محل کی کسی جانب سے ایک غیبی آواز نے سب کو چونکا دیا۔ کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا :یَا اَیُّہَا الْبَانِیُّ النَّاسِیُّ مَنِیَّتَہ، لَا تَاْمُلَنْ فَاِنَّ الْمَوْتَ مَکْتُوْبُ عَلَی الْخَلَائِقِ اِنْ سَرُّوْا وَاِنْ فَرِحُوْا فَالْمَوْتُ حَتْفٌ لِذِی الْآمَالِ مَنْصُوْبُ لَا تَبْنِیَنْ دِیَارًا لَسْتَ تَسْکُنُہَا وَرَاجِعِ النُّسْکَ کَیْمَا یُغْفَرُ الْحُوْبُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے اپنی موت کو بھول کر عمارت بنانے والے! لمبی لمبی امیدیں چھوڑ دے کیونکہ موت لکھی جاچکی ہے ۔ (۲)۔۔۔۔۔۔ لوگ خواہ خود ہنسیں یا دوسروں کو ہنسائیں، بہرحال موت ان کے لئے لکھی جاچکی ہے اور بہت زیادہ امید رکھنے والے کے سامنے تیار کھڑی ہے۔ (۳)۔۔۔۔۔۔ایسے مکانات ہرگز نہ بنا جن میں تجھے رہنا ہی نہیں تو عبادت وریاضت اختیار کر، تا کہ تیرے گناہ معاف ہوجائیں۔
؎ دِلا غافل نہ ہو یکدم، یہ دُنیا چھوڑ جانا ہے باغیچے چھوڑ کر خالی، زمین اندر سمانا ہے تو اپنی موت کو مت بھول، کر سامان چلنے کا زمیں کی خاک پر سونا ہے، اینٹوں کا سرہانا ہے جہاں کے شَغْل میں شاغل، خدا کے ذکر سے غافل کرے دعوی کہ یہ دنیا، مِرا دائم ٹھکانا ہے غلامؔ اک دَم نہ کر غفلت، حیاتی پر نہ ہو غُرَّہ خداکی یاد کر ہر دم، کہ جس نے کام آنا ہے
اس غیبی آواز نے بادشاہ اور اس کے تمام ہمراہیوں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ بادشاہ نے اپنے دوستوں سے کہا:'' جو غیبی آواز میں نے سنی کیاتم نے بھی سنی؟''سب نے یک زباں ہوکر کہا:''جی ہاں! ہم نے بھی سنی ہے ۔''بادشاہ نے کہا:'' جو چیز میں محسوس کر رہا ہوں کیاتم بھی محسوس کر رہے ہو ؟''پوچھا:'' آپ کیا محسوس کر رہے ہیں ؟'' کہا:'' میں اپنے دل پر کچھ بوجھ سا محسوس