Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
348 - 412
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے بعد آپ ایک مرتبہ بھی ہمارے پاس نہیں آئے۔' 'میں نے اپنی مصروفیات کا عذر بیان کرکے گھر والوں کو مطمئن کیا۔ پھر ترکش منگوایا تو اس میں دیناروں کی تھیلی موجود تھی، میں نے کہا:''فلاں یہودی کو بلا لاؤ۔'' جب وہ آیا تو میں نے کہا: ''کیاحضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اوپرتمہارا کوئی مال تھا؟'' یہودی نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ صَعْب پر رحم فرمائے وہ تو امتِ محمدیہ(عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے بہترین افراد میں سے تھے،میرا ان سے کوئی مطالبہ نہیں۔'' میں نے کہا: ''سچ سچ بتا!کیا انہوں نے تجھ سے کچھ قرض لیا تھا؟'' یہودی بولا:'' ہاں! انہوں نے مجھ سے دس (10)دینار قرض لئے تھے۔'' میں نے دیناروں کی تھیلی اس کی طرف بڑھائی تو کہنے لگا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ وہی دینار ہیں جو انہوں نے مجھ سے لئے تھے۔'' میں نے دل میں کہا: ''حضرتِ سیِّدُناصَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بتائی ہوئی ایک بات تو بالکل سچ ثابت ہوچکی ہے۔پھر میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر والوں سے پوچھا:''کیاحضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد تمہارے ہاں کوئی نئی بات ہوئی ہے ؟''کہا:''جی ہاں۔'' میں نے پوچھا:'' وہ کیا ہے ؟'' توانہوں نے کچھ باتیں بتائیں اور کہا کہ ہماری ایک بلی تھی جو ابھی چند روز قبل مری ہے۔'' میں نے دل میں کہا:'' دوسری بات بھی بالکل حق ثابت ہوگئی۔'' پھر میں نے پوچھا:'' میرے بھائی صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چھوٹی بچی کہاں ہے؟'' انہوں نے کہا: '' وہ باہر کھیل رہی ہے ۔''میں نے اسے بلوایا اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کا جسم بخار کی وجہ سے کافی گرم ہورہا تھا۔میں نے گھروالوں سے کہا:'' اس بچی کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا اور اسے خوب پیار سے رکھنا۔'' پھر میں واپس چلا آیا،چھ(6) دن بعداس بچی کا انتقال ہوگیا ۔اور یوں حضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بتائی ہوئی تینوں باتیں بالکل سچ ثابت ہوئیں۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر460:                 بادشاہ کی توبہ
    حضرتِ سیِّدُنا ابو بَکرْقُرَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناعَبَّادبن عَبَّاد مُہَلَّبِی کو ارشاد فرماتے سنا: ''بصرہ کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے امورِ سلطنت کو خیر باد کہہ کر زُہدوتقویٰ کی راہ اختیار کرلی مگر پھر دوبارہ سلطنت وحکومت کی طرف مائل ہوا اور دنیا کا عیش وعشرت طلب کرنے کی ٹھان لی۔ چنانچہ، اس نے ایک شاندار محل بنوایا اس میں اعلیٰ قسم کے قالین بچھوائے اور ہر طرح کے سازوسامان سے اس عظیم ُالشان محل کو آراستہ کرایا،اور ایک کمرہ مہمانوں کے لئے خاص کر دیا،
Flag Counter