کر رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ میری موت کا پیغام ہے۔'' لوگوں نے کہا:'' ایسی کوئی بات نہیں، آپ کی عمردرازاور اقبال بلند ہو! آپ پریشان نہ ہوں۔'' پھر بادشاہ نے لوگوں کی طرف توجہ نہ دی، اس کا دل چوٹ کھا چکا تھا۔ غیبی آواز نے اس کا ساراعیش ختم کر دیا تھا، وہ روتے ہوئے کہنے لگا:'' تم میرے بہترین دوست اور بھائی ہو، تم میرے لئے کیا کچھ کر سکتے ہو ؟'' لوگوں نے کہا: ''عالی جاہ! آپ جو چاہیں حکم فرمائیں، آپ کا ہر حکم مانا جائے گا۔'' بادشاہ نے شراب کے تمام برتن توڑ ڈالے ۔اس کے بعد بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزار ہوا:
'' اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! میں تجھے اور یہاں موجودتیرے بندوں کو گواہ بناکر تیری طرف رجوع کرتا اور اپنے تمام گناہوں اور زیادتیوں پر نادم ہو کر توبہ کرتا ہوں ۔اے میرے خالق عَزَّوَجَلَّ !اگر تُومجھے دنیامیں کچھ مدت اور باقی رکھنا چاہتا ہے تو مجھے دائمی اطاعت وفرمانبرداری کی راہ پر چلا دے ۔اور اگر مجھے موت دے کر اپنی طر ف بلانا چاہتا ہے تو مجھ پر کرم کر دے اور اپنے کرم سے میرے گناہوں کو بخش دے۔''
بادشاہ اسی طرح مصروفِ التجا رہا اور اس کا درد بڑھتا گیا۔ پھر اس نے ان کلمات کا تکرار شروع کر دی: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ''موت'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !''موت''۔ بس یہی کلمات اس کی زبان پر جاری تھے کہ اس کا طائر ِ روح قفسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گیا۔ اس دور کے فقہاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فرمایا کرتے تھے: ''اس بادشاہ کا خاتمہ توبہ پر ہوا ہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)