| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
کر دیکھا تو اسی کی طرح ایک اور خوبصورت دوشیزہ موجود تھی۔ اس نے بھی و ہی کہا جو پہلی نے کہا تھا۔ جب میں نے ہاتھ بڑھانا چاہا تو بولی: ''تھوڑی دیر رُک جاؤ! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ظہر کے وقت تم ہمارے پاس پہنچ جاؤ گے۔'' میں پھر رونے لگا۔ بس اس کے بعد مجھے ہوش آگیا اور اب میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔ ہم اس کی بات سن کر بہت حیران ہوئے اور وقت کا انتظارکرنے لگے جیسے ہی ظہر کا وقت ہوا اور مؤذن نے اذان کہی، وہ مدنی نوجوان زمین پر لیٹا اور اس کی روح عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر459: تین غیبی خبریں
حضرتِ سیِّدُنا شَہْربن حَوْشَب علیہ رحمۃاللہ الرَّب سے منقول ہے :حضرتِ سیِّدُنا صَعْب بن جَثَّامَہ اور حضرتِ سیِّدُنا عَوْف بن مالک علیہما رحمۃ اللہ الخالق میں دینی تعلق کی وجہ سے بہت گہری دوستی تھی۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا: ''اے میرے بھائی !ہم میں سے جو پہلے مر جائے اسے چاہے کہ اپنے حال سے دوسرے کو آگاہ کرے کہ مرنے کے بعد اس پر کیا گزری؟''حضرتِ سیِّدُناعَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:'' کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟''کہا:'' ہاں! ایسا بالکل ہوسکتا ہے۔'' پھر کچھ دنوں بعد حضرتِ صعب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انہیں خواب میں دیکھ کر پوچھا: ''ما فُعِلَ بِکَ یعنی آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟''فرمایا:'' میری بہت سی خطائیں بخش دی گئیں۔'' حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں نے ان کی گردن میں ایک سیاہ نشان دیکھ کر پوچھا :''یہ سیاہ نشان کیا ہے؟'' فرمایا:''میں نے فلاں یہودی سے دس دینار قرض لے کراپنے تَرْکَش (یعنی تیر رکھنے کے تھیلے) میں رکھ دیئے تھے، تم وہ دینار اس یہودی کو واپس لوٹا دینا، یہ نشان اسی قرض کی وجہ سے ہے۔اے میرے بھائی !خوب توجہ سے سن! میرے مرنے کے بعد ہمارے اہل وعیال میں چھوٹا یا بڑا کوئی واقعہ ایسا رونمانہیں ہو ا جس کی مجھے خبر نہ ہوئی ہو، مجھے اُن کی ہر ہر بات پہنچ جاتی ہے حتیٰ کہ ابھی چند روز قبل ہماری بِلّی مَری تھی مجھے اس کا بھی پتہ چل گیاہے ۔اور سنو !میری سب سے چھوٹی بیٹی بھی چھ دن بعد انتقال کر جائے گی، تم اس سے اچھا برتاؤ کرنا۔'' حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں بیدار ہوا تو کہا:'' یہ ضرور ایک اَہَم امر ہے، میں اس کی تحقیق کروں گا۔''
پھر میں ان کے گھر پہنچا تو گھر والوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: ''اے عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! کیا بات ہے ؟صَعْب