Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
33 - 412
اجتماع میں پابندیئ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔)

          ؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں		اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !
حکایت نمبر220:         کم سِن بچوں میں بھی اولیاء اللہ ہوتے ہیں
    حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ'' ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس بیٹھا تھا۔ایک شخص آیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا:'' اے ابو محفوظ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ '' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پررحم فرمائے بتاؤ کیا واقعہ پیش آیا؟'' اس نے اپنا واقعہ کچھ اس طر ح بیان کیا :

    '' میرے گھر والوں نے مجھ سے مچھلی کھانے کی فرمائش کی۔ میں نے بازار جاکر مچھلی خریدی اور اسے گھر پہنچانے کے لئے ایک کمسن مزدوربلایا، اس نے مچھلی اٹھائی اور میرے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ راستے میں اذان کی آواز سنائی دی اس مزدور لڑکے نے کہا:'' چچا جان ! اذان ہو رہی ہے کیا ہم نماز نہ پڑھ لیں؟'' اس کی یہ بات سن کر مجھے ایسا لگا جیسے وہ نو عمر لڑکا مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر رہا ہے۔ میں نے کہا :'' کیوں نہیں !آؤ پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں۔'' 

    اس نے مچھلی وضو خانے پر رکھی اور مسجد میں داخل ہو گیا ۔ہم نے باجماعت نماز ادا کی اور گھر کی طرف چل دئیے۔ گھر پہنچ کر میں نے گھر والوں کواس نیک کمسن مزدور کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے :'' اس سے کہو آج دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھالے ۔'' میں نے اسے دعوت دی تو اس نے کہا کہ :''میرا روزہ ہے۔''میں نے کہا:''افطاری ہمارے ساتھ کرلینا۔''کہا:'' ٹھیک ہے ، آپ مجھے مسجد کا راستہ بتادیں۔'' میں نے اسے مسجد پہنچا دیاوہ مغرب تک مسجد ہی میں رہا ۔ نماز کے بعدمیں نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، آؤ گھر چلتے ہیں۔ اس نے کہا :'' کیا ہم عشاء کی نماز پڑھ کر نہ چلیں؟'' میں نے اپنے دل میں کہا ـ:'' اس کی بات مان لینے ہی میں بھلائی ہے ۔'' 

    چنانچہ مَیں مسجد میں رُک گیا ، نمازِ عشاء کے بعد ہم گھر آئے۔ ہمارے گھر میں تین کمرے تھے ایک میں، مَیں اورمیری زوجہ رہتے تھے۔ دوسرے کمرے میں ایک پیدائشی معذور لڑکی رہتی تھی جو چلنے پھرنے سے بالکل عاجز تھی اور اسی حالت میں بیس سال گزر چکے تھے۔ تیسرا کمرہ مہمانوں کے لئے تھا ، ہم سب نے کھاناکھایا اور اپنے اپنے کمروں میں سوگئے نوعمر نیک لڑکے کو ہم نے مہمانوں
Flag Counter