Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
335 - 412
سیِّدُنا سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام تمہارے اور اس کبوتری کے لئے فارغ بیٹھے ہوں گے، پوری دنیا پر ان کی حکومت ہے، وہ اپنی مملکت کے معاملات میں مصروف ہوں گے،جلدی کرواور کبوتری کے بچوں کو پکڑ لاؤ ۔'' بیوی کا جواب سن کر وہ بے چارہ درخت پرچڑھا اور کبوتری کے بچوں کو پکڑ لایا۔ کبوتری نے دوبارہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی بارگاہ میں شکایت کر دی۔ آپ علیہ السلام کو بڑا جلال آیا اور مشرق ومغرب کے کناروں سے دو جِنّوں کو بُلا کر فرمایا: ''تم دونوں فلاں درخت کے پاس ٹھہرے رہو۔ جب وہ شخص درخت پر چڑھے تواس کا ایک پاؤں مشرق کی طرف اور دوسرا مغرب کی طرف کھینچنا ،اس طرح اس نافرمان کے دو ٹکڑے کر دینا۔'' حکم پا تے ہی دونوں جنّ مطلوبہ درخت کے پاس پہنچ گئے۔ وہ شخص درخت پر چڑھنے کے لئے تیار ہواہی تھاکہ کسی فقیر نے روٹی مانگی ،اس نے اپنی بیوی سے کہا :''اگر گھر میں کچھ ہے تو اس فقیر کو دے دو۔''عورت نے کہا: ''میرے پاس اس فقیر کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ۔'' تووہ خود کمرے میں گیا اوراسے وہاں سے روٹی کا ایک لقمہ ملا، وہی لقمہ فقیر کودیااور درخت پر چڑھ کر بغیر کسی تکلیف کے بآسانی کبوتری کے بچوں کو پکڑلایا۔ کبوتری نے پھر شکایت کی، تو آپ علیہ السلام نے دونوں جنّوں کو بلاکر ارشاد فرمایا:'' کیاتم دونوں نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے؟'' انہوں نے عرض کی:'' یانَبِیَّ ا للہ علیہ السلام ! ہم نے ہرگز آپ علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، بات دراصل یہ ہے کہ ہم توآپ علیہ السلام کا حکم پاتے ہی اس درخت کے پاس پہنچ گئے مگر جب وہ شخص درخت پر چڑھنے لگا تو کسی سائل نے روٹی مانگی، اس نے اسے روٹی کا ایک لقمہ دیا اور درخت پر چڑھنے لگا، ہم اسے پکڑنے کے لئے بڑھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دو فرشتے ہماری طرف بھیجے۔ انہوں نے ہمیں گردن سے پکڑا اور مغرب ومشرق کی طرف پھینک دیا۔ اس طرح ایک لقمہ صدقہ کرنے کی برکت سے وہ ہلاکت سے محفوظ رہا ۔''
حکایت نمبر448:         دوست کو کھانا کھلانے کی برکت
    حضرتِ سیِّدُنا سَلام بن مِسکِین علیہ رحمۃ اللہ المتین حضرتِ سیِّدُنا ثابِت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ''ایک مرتبہ چند لڑکے لکڑیاں کاٹنے کے لئے جنگل کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے قریب سے گزرے تو آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا: '' واپسی پر ان میں سے ایک لڑکا ہلاک ہوجائے گا۔'' جب ان کی واپسی ہوئی تو سب کے سب سلامت تھے اور کوئی بھی ہلاک نہ ہواتھا۔ حواریوں نے عرض کی:''یا نبی اللہ علیہ السلام ! آپ علیہ السلام تو ارشادفرمارہے تھے کہ ان میں سے ایک لڑکا ہلاک ہوجائے گا لیکن یہ سب بالکل سلامت ہیں ؟'' فرمایا:'' ان لڑکوں کو میرے پاس بلاؤ۔''جب وہ حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :'' اپنے سروں سے لکڑیوں کے گٹھے اُتار دو۔'' سب نے
Flag Counter