حضرتِ سیِّدُنا سَلام بن مِسکِین علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے ہیں: ایک شخص ہرسال کبوتری کے گھونسلے سے اس کے بچے اُتار لیا کرتا تھا۔ کبوتر اور کبوتری نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس شخص کے خلاف شکایت کی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''میں اسے ہلاک کرنے والا ہوں۔'' اس سال جب کبوتری نے انڈے دیئے اور بچے نکلے تو وہ شخص گھر سے دوروٹیاں لے کر نکلا۔ راستے میں ایک مسکین ملاتودونوں روٹیاں اسے دے دیں، پھر درخت پر چڑھا کبوتری کے بچے اُتارے اور واپس چلا آیا۔ کبوتراور کبوتری نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں شکایت کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے عہد کر رکھا ہے کہ ''جو شخص کسی دن کوئی صدقہ کریگا میں اسے اس دن ہلاک نہ کروں گا۔''
یہ حکایت حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح مروی ہے، رسولِ کریم رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جوہر مرتبہ پرندے کے گھونسلے سے بچے نکال لیتا۔پرندے نے اس کے خلاف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں شکایت کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:'' اگروہ اسی حال پرباقی رہا تو ہلا ک ہوجائے گا ۔'' جب اس سا ل وہ شخص گھر سے سیڑھی لے کر پرندے کے بچوں کو پکڑنے کے لئے چلا تو راستے میں اسے ایک فقیر ملا اس نے اپنے زادِ راہ میں سے ایک روٹی اسے دے دی، پھر درخت کے اوپرچڑھا اوربچوں کو پکڑلیا۔ پرندہ یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تو نے ہم سے وعدہ فرمایاتھا کہ اس مرتبہ وہ ہلا ک ہوجائے گا لیکن وہ تو صحیح وسالم جا رہا ہے ؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''کیا تم نہیں جانتے کہ جو شخص کسی دن کوئی صدقہ کرے میں اسے اس دن ہلاک نہيں کرتااور نہ ہی اسے اس دن کوئی برائی پہنچتی ہے ۔''