Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
333 - 412
اور صاف ستھرابچہ موجود تھا۔ایسالگتا تھا جیسے ماں کی گود سے ابھی ابھی لیا گیا ہو۔ہم بڑی حیرانگی کے عالم میں قدرت خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا نظارہ کررہےتھے اور متعجب تھے کہ یہ بچہ کہاں سے آیا اور اب تک بغیر خوراک کے کیسے زندہ ہے؟ ہم حیرت کی وادیوں میں گم تھے کہ اچانک ایک مادہ درندہ دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصے سے اندر داخل ہوا اور بچے کے قریب آکر بیٹھ گیا،بچہ محبت سے اس کی طرف لپکا اور اس مادہ کا دودھ پینے لگا۔ خالقِ کائنات ورزّاقِ مخلوقات جَلَّ جَلَالُہٗ کی اس شانِ رزاقی کو دیکھ کرہم بہت حیران ہوئے کہ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کو رزق کے اسباب مہیا کرتاہے ۔ اس نے ایک بچے کی خوراک کاانتظام کس طرح کیا۔ طاعون کی بیماری سے اس گھر کے تمام افراد عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے، انہیں افراد میں ایک حاملہ عورت بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا پھر اس بچے کی ولادت ہوئی اور اس کے رزق کا انتظام ایک درندے کے ذریعے کیا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا مَعْدِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کہتے ہیں: '' اس بچے نے خوب پرورش پائی اورجو ان ہو گیا او ر میں نے وہ دن بھی دیکھا کہ وہ بصرہ کی مسجد میں اپنی داڑھی کو اپنے ہاتھوں سے سنواررہا تھا ۔خالق کائنات جلَّ مَجْدُہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر جس طرح چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔''
حکایت نمبر446:         آگ سے بچنے کابہترین طریقہ
    حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی لَیْلٰی علیہ رحمۃ اللہ الا علیٰ کا بیان ہے، حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذبن عَفْرَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جو بھی دنیوی مال آتاسب صدقہ کردیتے۔ جب ان کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو ان کی اہلیہ محترمہ نے اپنے خاندان والوں سے کہا: ''اِن حضرت سے کہیں کہ گھر والوں کے لئے بھی کچھ مال جمع کر لیں۔'' چنانچہ، عزیز واقارب نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: ''اب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحب ِاولاد ہوگئے ہیں، اگر اپنی اولاد کے لئے کچھ مال جمع کر رکھیں تو اس میں کیا حرج ہے؟'' فرمایا: ''میں تو یہی چاہتا ہوں کہ آگ سے بچنے کے لئے اپنی ہرشئے خرچ کردوں،لہٰذا میں صدقہ وخیرات کرنے سے رُک نہیں سکتا۔''

    راوی کہتے ہیں: '' جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کے پڑوس میں زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا میراث میں چھوڑا ،وہ ایسی زمین تھی کہ میں اپنی تین درہم کی چادر کے عوض بھی خریدنے پر راضی نہ تھا ۔پھر چند دن بعد پڑوسی نے وہی زمین تیس ہزار(30,000)درہم میں خرید لی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
Flag Counter