| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
اس نے بہت سی ایسی ایسی باتیں اس شخص کے بارے میں کہیں جو اس میں بالکل نہ تھیں بلکہ وہ تو ان تمام برائیوں سے بہت زیادہ دور رہتا تھا۔ شکایت کرنے کے بعد جب وہ بے مُرَوَّت چلا گیا تو حاکمِ شہر نے اس کریم کو بلاکرکہا:'' فلاں شخص نے تمہارے خلاف یہ یہ شکایتیں کی ہیں۔'' یہ سن کروہ بہت حیران و پریشان ہو گیا۔حاکم نے کہا:''کیا ہوا، تم اتنا پریشان کیوں ہو گئے؟'' اس نے کہا:''مجھے خوف ہے کہ میں نے اس کے ساتھ اچھائی و بھلائی میں کمی کی ہے جبھی تو وہ میری برائی پر آمادہ ہوگیا۔ افسوس! میں اس کی صحیح خدمت نہ کرسکا ۔''حاکم نے جب یہ سنا تو کہا: ''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !تم دونوں کی طبیعتوں اور عادتوں میں کتنا تعجب خیز فرق ہے۔تم تو اس پر احسان و شفقت کئے جا رہے ہوجبکہ وہ احسان فراموش ولئیم (یعنی کمینہ)ہے ۔''
پھر نیک وکریم شخص نے حاکم سے واپسی کی اجازت چاہی جب واپس جانے لگا تو حاکم نے کہا:''اللہ تبارک وتعالیٰ آپ جیسے نیک سیرت لوگوں کو لمبی عمر عطا فرمائے اور آپ کا فیض تا دیر جاری وساری رہے ۔( احسان فراموش کی مذمت میں شاعرنے کیا خوب کہا ہے:)حکایت نمبر445: جسے اللہ رکّھے اُسے کون چکّھے
حضرت سیِّدُنامَعْدِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا بیان ہے:ابوبُغَیْل نامی ایک شخص نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا: ''ایک مرتبہ طاعون کے مرض نے لاشوں کے انبار لگادیئے ،ہم مختلف قبیلوں میں جاکر مُردوں کو دفن کرتے۔ جب پور ے پورے گاؤں ہلاک ہونے لگے اور لاشوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو ہم انہیں دفنانے سے عاجز آگئے۔چنانچہ، اب ہم جس گھر میں داخل ہوتے اور دیکھتے کہ اس کے رہائشی فوت ہوگئے ہیں اور ان کی لاشیں گھر کے اندر ہی ہیں تو تمام لاشیں ایک کمرے میں جمع کرکے دروازہ اورکھڑکیاں وغیرہ بند کردیتے۔ اسی طرح گھرگھر جاکر ہم لاشیں جمع کرتے رہے پھرایک گھر میں گئے تودیکھاکہ گھرمیں موجود سب لوگ مر چکے ہیں ،ان میں کوئی ایک بھی زندہ نہ تھا۔ ہم نے گھر کے تمام دروازے بند کئے اور واپس آگئے۔
جب طاعون کا مرض چلا گیا تو ہم نے بندگھروں کو کھولنا شروع کیا، پھر ہم ایک گھرمیں گئے جس کے تمام رہائشی مرچکے تھے اور ہم نے اس کے دروازے اچھی طرح بند کئے تھے۔جب دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صحن میں ایک تر وتازہ، فربہ؎ جو اپنے محسنوں کو عیاری دکھاتاہے نارِ حسد کے شُعلوں کوہر دم بڑھاتا ہے ایسا لئیم ذلت و خواری اٹھاتاہے اپنی لگائی آگ میں خود کو جلاتا ہے لیکن کریم پھر بھی کریمی دکھاتا ہے گرچہ بُروں کی طرف سے سَو غم اُٹھاتا ہے