Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
331 - 412
 آپ پر رحم فرمائے! اگر مناسب سمجھیں تو اپنے مرہم سے میرے زخموں کا علاج فرما دیجئے اور مجھ پر احسان فرمایئے۔'' یہ سن کر بزرگ نے اپنے عصا سے ٹیک لگائی اور کہا:'' پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ بتاؤ! اصل مسئلہ کیا ہے؟'' کہا: ''حضور!یہ ارشاد فرمائیے کہ خوف کی علامت کیا ہے؟'' فرمایا : ''اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا خوف تجھے ہر خوف سے نجات دے دے، اس کے علاوہ تجھے کسی کا خوف نہ رہے ۔''یہ سن کر نوجوان درد بھری آہیں بھرنے لگا ،پھر بے ہوش ہو کر گرپڑا۔ جب افاقہ ہو ا توا پنے ہاتھ سے چہرہ صاف کیااور کہا :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! یہ بتایئے کہ بند ہ خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ میں کب پختہ ہوتا ہے؟ اسے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ میں درجۂ کمال کب نصیب ہوتا ہے ؟''فرمایا:'' جب وہ دنیا میں اپنے آپ کومریض کی طرح رکھے اور بیماری کے خوف سے ہر قسم کے کھانے سے اپنے آپ کو بچائے، مرض کے طویل ہوجانے کے خوف سے دوا کی کڑواہٹ برداشت کرے ۔'' نوجوان نے پھر ایک درد بھری چیخ ماری اور منہ کے بَل گر کر بے ہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو کہا:''حضور! مجھ پر نرمی فرمایئے۔ بزرگ نے کہا: '' پوچھو! جو پوچھنا ہے۔''عرض کی:''اللہ رَبُّ العِزَّت سے محبت کی علامت کیا ہے ؟''

    یہ سن کر اس بزرگ پرکپکپی طاری ہوگئی پھر روتے ہوئے کہا:''میرے دوست ! بے شک درجۂ محبت بہت اعلیٰ درجہ ہے۔'' نوجوان نے کہا: ''حضور!میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس کے متعلق کچھ بتائیں ۔'' فرمایا :'' بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے والوں کے دل محبت کی وجہ سے چاک ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں کے نورسے خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی عظمت وجلال کی طرف نظر کرتے ہیں۔ ان کے اجسام تو دنیا میں ہوتے ہیں لیکن روحیں پردوں میں ہوتی ہیں۔ وہ امور کا مشاہدہ علم ُ الیقین کے ساتھ کرتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شدید محبت کی وجہ سے جتنا ہوسکے ہر لمحے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ جنت کے حصول یا دوزخ سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ خالص رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اعمال کرتے ہیں۔'' بس یہ سننا تھا کہ وہ نوجوان تڑپ کر زمین پر گرا اور روتے روتے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی ۔ بزرگ نے اس کی پیشانی اورہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا:''یہی حالت خائفین کا میدان ،مجاہدہ کرنے والوں کی راحت ہے اورانہیں اسی حالت میں سکون ملتا ہے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم)
حکایت نمبر444:             احسان فراموش
    حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ بن محمدتَمِیْمِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سے منقول ہے: '' ایک غریب و نادار شخص کسی کریم ونیک شخص کے پاس گیاتواس نے پریشانیاں دور کر کے اسے خوشحال و غنی کردیا۔ لیکن وہ ناشُکرا کریم کی کثیر عطاؤں کے باوجود ناشکری کرتا۔پھر ایک دن شہرکے امیر کے پاس جاکر شکایت کی:''میں جس کے پاس رہتا ہوں اس میں یہ یہ برائی ہے ،وہ تو بہت ہی بُرا ہے الغرض
Flag Counter