Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
330 - 412
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدْنٰی وَیَقُوۡلُوۡنَ سَیُغْفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الْکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللہِ  اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ  ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ ﴿169﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پھران کی جگہ ان کے بعدوہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے اس دنیاکامال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش ہو گی اوراگرویساہی مال ان کے پاس اورآئے تولے لیں۔ کیاان پر کتاب میں عہد نہ لیاگیاکہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا اور بے شک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔(پ9،الا عراف:169)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے! ابھی جو عمر باقی ہے اس میں بیدار ہو جاؤ۔ تم بُری طرح پھنس چکے ہو ۔خدارا! اپنے آپ کو بچاؤ، اپنے دین کی دوا کرو۔ بے شک اس میں کمزوری آگئی ہے ۔ زادِراہ تیار کرلو، عنقریب تمہیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ تمہارا معاملہ اس کے ساتھ ہے جوحافظ و نگہبان ہے، وہ تم سے غافل نہیں۔ تم اپنی فکر کرو، تمہارے علاوہ کو ن تمہاری فکر کریگا۔ تمام تعریفیں اُس مالکِ حقیقی کے لئے ہیں جس سے زمین وآسمان کی کوئی شئے پوشیدہ نہیں، وہ غالب و حکمت والا ہے۔    وَالسَّلَام
حکایت نمبر443:         خائف نوجوان کی انوکھی موت
    حضرتِ سیِّدُناذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''مجھے بتایا گیا کہ یمن میں ایک عبادت گزار شخص ہے جو خائفین میں اعلیٰ مرتبہ اور مجاہدہ کرنے والوں میں بلند مقام رکھتا ہے۔ اس کی یہ صفات سن کر مجھے زیارت وملاقات کا شوق ہو ا، چنانچہ، حج سے فراغت کے بعد میں'' یَمن'' گیاااور پوچھتا پوچھتا اس عابد کے گھر پہنچا۔وہاں دروازے کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے وہ سب بھی زیارت وملاقات کرنے آئے تھے۔ ہمارے درمیان انتہائی کمزور ونحیف بدن اور زرد چہرے والاایک متقی وپرہیز گار جوان بھی تھا ،ایسا لگتا تھا جیسے کسی بہت بڑ ی مصیبت نے اسے موت کے قریب پہنچادیا ہے۔ 

    کچھ دیر بعد دروازے سے ایک بزرگ آیا اور نمازِجمعہ کے لئے مسجد کی طرف چل دیا۔سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہی وہ پرہیز گار وعبادت گزار شخص تھا جس کی ولایت کے ڈنکے دنیا بھر میں بج رہے تھے۔ ہم بھی اس کے پیچھے چل دیئے اورایک جگہ اس کے گرد جمع ہوگئے تاکہ اس سے گفتگو کریں ۔اتنے میں وہ کمزور نوجوان آیااور سلام کیا۔ بزرگ نے اسے خوش آمدید کہا اور بڑی گرم جوشی سے ملاقات کی۔ نوجوان نے کہا :''اے شیخ! اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ جیسے لوگوں کو دلوں کی بیماری کا طبیب اور گناہوں کے درد کا مُعالِج بنایا ہے۔ مجھے بھی ایک بہت گہرا زخم ہے جوبہت پھیل چکا ہے، اب میری بیماری عُروج کو پہنچ چکی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ
Flag Counter