Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
329 - 412
تلے دبے ہوئے ہو۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں درازی عمر سے نوازا،اپنے دین کی سمجھ اور اپنی کتاب کے علم سے مالا مال کیا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان نعمتوں کے ذریعے تمہیں آزمائے گا، تم پر اپنی نعمتوں کی برسات فرمائے گا، پھر ان نعمتوں پر تمہارے شکر کو آزمائے گا، اللہ ربُّ العِزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ ارشادفرماتاہے:
   لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ  وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ  اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿7﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اگراحسان مانوگے تومیں تمہیں اوردوں گا اور اگر ناشکری کروتومیراعذاب سخت ہے۔  (پ13،ابرٰہیم:7)

    ذرا سوچو توسہی! جب بروزِ قیامت تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں حاضرہوگے اوروہ قادرِ مطلق عَزَّوَجَلَّ تم سے اپنی نعمتوں کے متعلق پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیسے استعمال کیا ؟جو دلیل اس نے عطافرمائی اس کے متعلق پوچھے گا کہ ا س میں کس کس طرح فیصلہ کیا ؟ہرگز اس گمان میں نہ رہنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس دن تمہارا عذر قبول کریگا اور غفلتوں اور کوتاہیوں کے باوجود تم سے راضی ہو جائے گا ۔تمہارا یہ کہنا کافی نہیں کہ میں عالِم ہوں، تم نے لوگوں سے علمی جھگڑا کیا تو اپنے زورِ بیان سے غالب رہے، تمہیں جو سمجھ بوجھ عطا کی گئی، جو فہم وفراست ملی اسے استعمال کرتے ہوئے بتاؤ کہ کیااللہ عَزَّوَجَلّّ کا یہ فرمان علماء کے متعلق نہیں؟
وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ  وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضروراسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے توکتنی بُری خریداری ہے۔ (پ۴،اٰل عمران:۱۸۷)

    اے ابن شِہَاب زُہْرِی!اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا بھلا کرے ۔یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم ظالموں کے ساتھ بیٹھتے ہو ،جب وہ تمہیں بلاتے ہیں توان کے پاس چلے جاتے ہو، وہ تحائف دیتے ہیں تو قبول کرلیتے ہو،حالانکہ وہ تحفے کسی صورت میں قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ ظالموں نے تمہیں ایسی چکی بنالیا ہے جس کے گرد اُن کی باطل خواہشات گھومتی ہیں ۔تمہیں ایسی سیڑھی اورپُل بنالیا ہے جس کے ذریعے وہ ظلم وگمراہی کی منزلوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ تمہارے ذریعے علماء کے خلاف شکوک وشبہات کا شکار ہوتے اور جاہلوں کے دِلوں کو ہانکتے ہیں۔ تم اب تک نہ تو ان کے خاص وزراء کی صف میں شامل ہوسکے نہ ہی خاص ہم نشین بن سکے۔بس تم نے توان کی دنیاکوسنوارااورعوام وخواص کو ان ظالموں کے گرد جمع کر دیا ہے، انہوں نے تمہارے لئے جو کچھ تیار کیا وہ اس سے کتنا کم ہے جو انہوں نے بربادکر دیا۔ تم سے کتنا زیادہ چھین کر کتنا کم دیا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، اپنی فکر کرو۔ تمہیں تو اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہے جس نے تمہیں علمِ دین کی دولت سے نوازا ، اپنی کتاب کا علم دیا اور ان لوگوں میں سے نہیں بنایا جن کے بارے میں ارشادفرمایا:
Flag Counter