Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
32 - 412
ہونگی۔ میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے تیرے لئے اس مال کے ذریعے جنت میں ایک ایسا محل خریدا ہے جو عرش کے قریب ہے۔ ''

     پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ کا غذ نوجوان کو دیا۔ اورشام سے پہلے پہلے تمام مال فقرا ومساکین میں تقسیم فرمادیا۔ اس واقعہ کے چالیس دن بعد آ پ کو مسجد کی محراب میں ایک پرچہ ملا،دیکھا تو بڑے حیران ہوئے کیونکہ یہ وہی پرچہ تھا جو اس نوجوان کو لکھ کر دیا تھا۔ اس کی دوسری طرف بغیر روشنائی کے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

    '' یہ براء ت نامہ ،خدائے بزرگ وبر ترکی جانب سے مالک بن دینار کے لئے ہے۔بے شک ہم نے اس نوجوان کو وہ تمام چیزیں دے دیں ہیں جن کا مالک بن دینار نے اس سے اقرار کیا تھا بلکہ ہم نے اس سے ستر گنا زیادہ دیا۔''ہم وہ رقعہ لے کر اس نوجوان کے گھر گئے تو وہاں سے رونے کی آواز یں آرہی تھیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگوں سے نوجوان کے بارے میں پوچھا توپتا چلا کہ کل اس نوجوان کا انتقال ہوگیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی موت کی خبرسن کر بہت غمگین ہوئے پھر غسّال کو بلاکر پوچھا :کیا تو نے اس نوجوان کو غسل دیا؟'' کہا :'' ہاں۔ '' فرمایا: ''نوجوان کی موت کا پورا واقعہ بیان کرو۔ ''

     کہا:'' مرنے سے پہلے اس نوجوان نے مجھ سے کہا تھا کہ جب میں مرجاؤں اور غسل کے بعد مجھے کفن دینے لگيں تو یہ پرچہ میرے بدن اور کفن کے درمیان رکھ دینا، میں کل بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وہ چیز طلب کرو ں گا جس کی ضمانت حضرتِ سیِّدُنا مالک بن د ینارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار نے مجھے دی تھی ۔''میں نے حسبِ وصیت پرچہ اس کے کفن میں رکھ دیا، غسّال کی یہ بات سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پرچہ نکالا اور غسّال کو دکھایا ،وہ پکار اٹھا :'' یہ وہی پرچہ ہے ، قسم ہے اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! میں نے خود اپنے ہاتھوں سے یہ پرچہ اس نوجوان کے کفن میں رکھا تھا۔ ''

    یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار زار وقطار رونے لگے۔لوگ بھی رونے لگے۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہوا اور کہا :'' اے مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار !آپ مجھ سے دو لاکھ درہم لے لیں اور اس نوجوان کی طرح مجھے بھی ضمانت نامہ لکھ دیں۔'' فرمایا:'' افسوس ! اب وہ وقت گزر چکا ، اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا ، اللہ ربُّ العزت جس طر ح چاہتا ہے اپنی مخلوق میں فیصلہ فرماتا ہے ۔'' حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ'' حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کو جب بھی اس نوجوان کا واقعہ یاد آتا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زارو قطار رونے لگتے اور اس کے لئے دعا فرماتے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم) 

    ( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشنودی ،جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول اور باکردار مسلمان بننے کے لئے ''دعوتِ ا سلامی'' کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے'' مدنی انعامات ''نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے۔اور اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے