Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
328 - 412
حکایت نمبر442:                اللہ والوں کی باتیں
    ابوبِشْر تَمِیْمِی کا بیان ہے، جب ہِشَام بن عبد المَلِک خلیفہ بنا تو اس نے اپنے ماموں ابراہیم بن ہِشَام کو کئی شہروں پر امیر مقرر کردیا۔ ایک مرتبہ ابراہیم بن ہِشَام دورے پر تھا۔ جب مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا کے قریب پہنچا تو وہاں کے لوگ استقبال اور مُبَارَک باد کے لئے آئے ۔ امیر نے پوچھا: ''کیا تمام نیک لوگ اور علماء وفقہاء آگئے ہیں۔'' لوگوں نے کہا: ''عالی جاہ! حضرتِ سیِّدُنا ابو حَازِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سوا سب آگئے ہیں۔'' امیر ابراہیم بن ہِشَام نے قاصد بھیج کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا: '' اے ابو حَازِم! اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو مزید عزت ورِفعت عطافرمائے ،آپ جانتے ہیں کہ میرا تعلق قبیلۂ قریش سے ہے، میں امیرالمؤمنین کا ماموں ہوں اور مجھے حرمین شریفین پر والی مقرر کیا گیا ہے۔ اب میں یہاں آیا تو سب لوگ مبارک باداوراستقبال کے لئے آئے مگر آپ تشریف نہ لائے، کیا وجہ ہے ؟''

    فرمایا:'' اے امیر !مجھے ایسی کوئی حاجت نہیں کہ جس کی وجہ سے مجھے آپ کی طرف محتاجی ہوتی، اسی طرح آپ کو بھی میری محتاجی نہیں۔ اے امیر ! میرے اپنے کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں مشغولیت کی وجہ سے مجھے کسی اورکی طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بات سن کراور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کمزور ونحیف جسم کو دیکھ کر امیر نے کہا: ''اے ابوحَازِم!آپ کے پاس کتنا مال ہے؟''فرمایا: ''میرے پاس دوقسم کا خزانہ ہے جس کے ہوتے ہوئے مجھے تنگدستی ومفلسی کا خوف نہیں۔''پوچھا:'' وہ دو خزانے کون سے ہیں ؟''فرمایا : ''(۱)۔۔۔۔۔۔ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور(۲)۔۔۔۔۔۔لوگوں سے بے نیازی۔'' پوچھا:'' آپ کیا کھاتے ہیں ؟'' فرمایا: ''روٹی اور زیتون کا تیل ۔''پوچھا:''کیا مسلسل ایک ہی کھانا کھا کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُکتاتے نہیں؟''فرمایا :'' جب اُکتا جاتا ہوں تو کھانا ترک کردیتا ہوں، جب دوبارہ خواہش ہوتی ہے تو کھالیتا ہوں۔''امیر نے پوچھا: '' ہماری نجات کن اُمور میں ہے ؟''فرمایا:'' خالق عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے بغیر کسی سے کوئی چیز نہ لو اور کسی بھی حق دار کا حق نہ روکو۔'' امیر نے کہا:'' اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟''فرمایا:'' جو آگ سے نجات اور جنت کا طالب ہے اس پر یہ کام آسان ہے۔'' اس وقت مجمع میں حضرت سیِّدُناابن شِہَاب زُہْرِی علیہ رحمۃاللہ القوی بھی موجود تھے انہوں نے کہا:''اے امیر !یہ تقریباً چالیس سال سے میرے پڑوسی ہیں ،جیسی باتیں آج انہوں نے کی ہیں آج تک کبھی میں نے ان سے ایسی باتیں نہیں سنیں۔ ان کی یہ شان آج سے پہلے مجھ پر کبھی ظاہر نہ ہوئی۔''حضرتِ سیِّدُنا ابوحَازِم مکی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے گھر آئے اور ابن شِہَاب زُہْرِی علیہ رحمۃاللہ القوی کویہ خط لکھا:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    اَمَّابَعْد!اے زُہْرِی! اب تم بہت بوڑھے ہوگئے ہو یہ ایسی عمر ہے کہ جو بھی تمہیں دیکھے گا دعا کریگا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ میری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔تم خدائے بزرگ وبَرترجَلَّ جلَا لُہٗ کی بے انتہا نعمتوں کے بوجھ
Flag Counter